سیرتِ رسول
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرا اور آپ کا سامنا ہوگیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ کئی اینٹیں اٹھا کرلا رہے ہیں اور اپنے سینہ سے اینٹوں کو سہارا دیے ہوئے ہیں۔ میں نے سمجھا کہ شاید آپ زیادہ بوجھ کی وجہ سے ایسا کیے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، ان اینٹوں کو مجھے دے دیجئے۔ آپ نے کہا: خُذْ غَيْرَهَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَإِنَّهُ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ (مسند احمد، حدیث نمبر 8951)۔ یعنی، اے ابو ہریرہ، تم دوسری اینٹیں لے لو کیوں کہ زندگی تو بلا شبہ صرف آخرت کی زندگی ہے۔ مواخاة مکہ سے ہجرت کر کے جو مسلمان مدینہ پہنچے ان کی حیثیت نئے شہر میں پناہ گزیں کی تھی۔ ان کی آبادکاری کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ طریقہ اختیار کیا جس کو مواخاة (ایک دوسرے کو بھائی بنانا) کہا جاتا ہے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے کہا کہ تم لوگ دو دو شخص اللہ کی راہ میں بھائی بھائی بن جاؤ: تَأَخَوُا فِي اللَّهِ أَخَوَيْنِ أَخَوَيْنِ۔ اس کے بعد آپ نے حضرت علی بن ابی طالب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا: هَذَا أَخِي (سيرة ابن هشام، جلد 1، صفحہ 505)۔ یعنی، یہ میرا بھائی ہے۔ اس طرح مہاجر مسلمان مدینہ میں اجنبی نہیں رہے، مہاجر اور انصار دونوں بھائی بھائی بن کر ایک دوسرے کے مددگار بن گئے۔ یہ بھائی چارہ اتنا مکمل تھا کہ دونوں کو ایک دوسرے کی وراثت ملنے لگی جس طرح بھائی کو بھائی سے ملتی ہے۔ مدینہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان یہ مواخاة ہجرت کے پانچ مہینہ بعد قائم کی گئی۔ مہاجرین کی حیثیت لٹے ہوئے قافلہ کی تھی۔ اس لیے اس مواخاة میں انصار کی حیثیت دینے والے کی تھی، اور مہاجر کی حیثیت پانے والے کی۔ مگر انصار نے دل کی پوری آمادگی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader