مواخاۃ
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
ہمارے جو کھجور کے باغات ہیں، ان کو ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دیجئے ۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ انصار نے کہا کہ پھر آپ جیسا فرمائیں۔ آپ نے کہا کہ مہاجرین کو زراعت اور باغبانی کا تجربہ نہیں۔ پھر کیا تم ایسا کرو گے کہ باغ میں تم ہماری طرف سے محنت کرو اور پیداوار میں ہم تمہارے شریک رہیں۔ انصار نے کہا کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ انصار کا یہ طریقہ تھا کہ جب وہ کھجور کی پیداوار کو تقسیم کرتے تو ہر انصاری ان کے دو حصے اس طرح کرتا کہ اس کا ایک حصہ کم ہوتا اور دوسرا حصہ زیادہ ۔ پھر وہ کم والے حصہ کے ساتھ کھجور کی شاخیں ملا دیتے۔ اس کے بعد وہ مسلمانوں سے کہتے کہ دونوں میں سے جس حصہ کو چاہیں لے لیں۔ تو مہاجر زیادہ پیداوار والے حصہ کو لے لیتے اور انصاری اس حصہ کو لے لیتے جس میں پھل کی مقدار کم ہوتی۔ یہ سلسلہ خیبر کی فتح تک جاری رہا۔ پھر جب خیبر کا علاقہ فتح ہوا اور مسلمانوں کو خیبر کے باغات ملے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا کہ ہمارا حق جو تمہارے اوپر تھا وہ تم نے پورا پورا ادا کر دیا۔ اب اگر تم چاہو تو ہم تمہارے اطمینان خاطر کے لیے خیبر میں تمہارا حصہ دے دیں۔ انصار نے کہا کہ اے خدا کے رسول، ہمارے اوپر آپ کی کچھ شرطیں تھیں اور ہماری بھی آپ کے اوپر ایک شرط تھی، وہ یہ کہ ہمارے لیے جنت ہو۔ آپ نے فرمایا وہ ہم نے کر دیا، تو اب ہماری شرط بھی ہم کو ملے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں، وہ تمہارے لیے ہے: فَذَاكُمْ لَکُمْ (مجمع الزوائد، حدیث نمبر 16526)۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مواخات کا طریقہ دوبارہ اختیار فرمایا۔ پہلی بار مکہ میں، اور دوسری باری مدینہ میں ۔ مکہ میں جن لوگوں نے اسلام قبول کیا، ان میں کئی افراد ایسے تھے جو اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے خاندان سے کٹ گئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader