سیرتِ رسول
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
تھے۔ اس لیے ضرورت پیش آئی کہ ان کا کوئی انتظام کیا جائے۔ چنانچہ آپ نے مکہ میں ایسے افراد کا رشتہ مواخات ایسے مسلمانوں کے ساتھ قائم فرمایا جو اسلام قبول کرنے کے بعد بھی صاحب خاندان کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ پہلی مواخات مہاجرین اور مہاجرین کے درمیان ہوئی۔ عبداللہ بن عباس بتاتے ہیں کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر بین العوام اور عبداللہ بن مسعود کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔ اس طرح زید بن حارثہ کی مواخات حمزہ بن عبد المطلب کے ساتھ قائم کی گئی۔ مصعب بن عمیر کی مواخات سعد بن ابی وقاص کے ساتھ، وغیرہ۔ مواخات کا طریقہ دوسری بار ہجرت کے بعد مدینہ میں اختیار کیا گیا۔ یہ مواخات مہاجرین اور انصار کے درمیان تھی۔ مدینہ اس زمانہ میں ایک قصبہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ جب وہاں مہاجرین آئے تو ان کے آنے سے پناہ گزینوں کا ایک بڑا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ اس وقت آپ نے مواخات کا طریقہ اختیار کر کے اس مسئلہ کو حل فرمایا۔ مواخات نے صرف یہی نہیں کیا کہ کچھ بے گھر لوگوں کے معاشی مسئلہ کو حل کیا۔ اس نے اس بات کا عملی مظاہرہ کیا کہ اسلام میں اصل تعلق دین کا تعلق ہے۔ بقیہ تمام حیثیتیں اضافی ہیں۔ چھوٹا اور بڑا، غریب اور امیر، گھر والا اور بے گھر والا، سب اللہ کی نظر میں یکساں ہیں۔ تمام مادی اور سماجی امتیازات کو مٹا کر انہیں دین کی خاطر ایک ہو جانا چاہیے۔ معاہدۂ مدینہ مدینہ میں دو عرب قبیلے اوس اور خزرج آباد تھے۔ اس کے ساتھ وہاں یہودیوں کے بھی کچھ قبیلے تھے جو اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ لوگ عربوں کے مقابلہ میں علم میں آگے تھے۔ اسی کے ساتھ وہ لوگ تجارت کرتے تھے، اس بنا پر دولت کے اعتبار سے بھی وہ بڑھے ہوئے تھے۔ یہودیوں میں سے تھوڑے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو پہچان کر آپ پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader