Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

فقہی مسئلہ، شرعی مسئلہ

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

اس عدم قتل کا سبب کیا تھا۔ علامہ ابن تیمیہ نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ــــ یعنی رسول اللہ صرف اس لیے اس کے قتل سے باز رہے کیوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ اس کے قتل سے لوگ اسلام سے برگشتہ ہو جائیں گے، کیونکہ اس وقت اسلام ضعیف تھا۔ دور اول کے زمانہ میں اور عباسی خلافت کے زمانہ میں بننے والی فقہ کے درمیان یہ فرق کیوں۔ جیسا کہ معلوم ہے فروری 1979ء میں ایران کے آیت اللہ خمینی نے یہ فتویٰ دیا کہ سلمان رشدی نے اپنی کتاب سیٹنگ ورسز (Satanic Verses) کے ذریعہ پیغمبر اسلام کی توہین کی ہے۔ اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس کو قتل کر دیں۔ یہ فتویٰ جب چھپا تو غالباً راقم الحروف کے واحد استثنا کو چھوڑ کر دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس فتویٰ کی تائید کی۔ اس کی حمایت میں زبردست مظاہرے ہوئے۔ مگر مسلمانوں کی عالمی تائید کے باوجود سلمان رشدی کو قتل کرنا ممکن نہ ہوسکا۔ مزید یہ کہ قتل کے اس فتویٰ اور مسلمانوں کی طرف سے اس کی حمایت کے نتیجہ میں اسلام ساری دنیا میں بدنام ہو گیا۔ اور اس کی تصویر یہ بن گئی کہ اسلام خدا نخواستہ ایک وحشیانہ مذہب ہے۔ موجودہ زمانہ میں آزادی رائے کو انسان کا سب سے بڑا حق سمجھا جاتا ہے۔ یہ گویا ان کا مذہب ہے۔ اس بنا پر پوری جدید دنیا نے اس فتویٰ کو اپنے مذہب (آزادی) پر براہ راست حملہ سمجھا۔ یہ لوگ پوری طاقت کے ساتھ رشدی کے دفاع پر آ گئے۔ اسی کے ساتھ جدید میڈیا نے اس معاملہ کو اتنا پھیلایا کہ اس کی خبر ساری دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچ گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس اندیشہ کی بنا پر مدینہ کے عبداللہ بن ابی کے قتل سے پرہیز کیا، وہ اندیشہ سلمان رشدی کے خلاف قتل کے فتویٰ کی نتیجہ میں ہزار گنا زیادہ بڑے پیمانہ پر اہل اسلام کے لیے پیش آگیا۔ اب ان دو متقابل نظیروں پر غور کیجیے۔ پیغمبر اسلام کی نظیر بتاتی ہے کہ شتم رسول کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page