Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

فقہی مسئلہ، شرعی مسئلہ

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

معاملہ میں خواہ وہ کتنے ہی زیادہ بڑے پیمانہ پر ہو، یہ دیکھا جائے گا کہ شاتم کو اگر قتل کیا جائے تو اس کا عملی نتیجہ کیا نکلے گا۔ اگر حالات پر اہل اسلام کا اتنا کنٹرول نہ ہو کہ وہ قتل کے منفی نتائج کو روک سکیں تو اہل اسلام قتل کا اقدام نہیں کریں گے۔ وہ اس معاملہ کو اللہ کے حوالہ کر دیں گے۔ اس کے برعکس، فقہاء کی مثال بتاتی ہے کہ جب کوئی شخص شتم کا فعل کرے تو اس کو فوراً قتل کر دیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نظیر سے اپنے لیے ہدایت نہیں لی۔ ان کی نظر فقہاء کی مسلک پر اٹک کر رہ گئی۔ فقہاء کی پیروی میں متحد ہو کر وہ قتل شاتم کے علم بردار بن گئے۔ اس سوال کا جواب تقلید ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان متفقہ طور پر یہ رائے بنا چکے تھے کہ اب امت کے لیے براہ راست قرآن و سنت سے اجتہاد کا دروازہ بند ہے۔ اب صرف اجتہاد مقید ہی کا دروازہ ان کے لیے کھلا ہوا ہے۔ دوسری لفظوں میں یہ کہ اب مسلمان براہ راست قرآن اور سنت سے مسائل اخذ نہیں کر سکتے۔ اب ان کے لیے صرف ایک ہی صورت ممکن ہے، اور وہ یہ کہ فقہاء کے ففتووں کو جانیں اور پوری تقلیدی جذبہ کے ساتھ اس پر قائم ہو جائیں۔ چنانچہ انہوں نے رشدی کے معاملہ میں یہی کیا۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، موجودہ فقہ کی تدوین اس وقت ہوئی جب کہ اہل اسلام کو مکمل اقتدار حاصل تھا۔ ان کو حالات پر اتنا زیادہ کنٹرول تھا کہ کسی قوم کی طرف سے باغیانہ روش کا اندیشہ ہوتا تو خلیفہ صرف دھمکی کا ایک خط لکھتا اور باغی گروہ پست ہمت ہو کر خاموش ہو جاتا۔ مگر موجودہ زمانہ میں حالات بدل چکے تھے۔ اب اہل اسلام کو پہلے کی طرح حالات پر کنٹرول حاصل نہ تھا۔ مزید یہ کہ ان کے لیے بہت سے ناموافق حالات پیدا ہو چکے تھے۔ مثلاً آزادی کا موجودہ زمانہ میں خیر اعلیٰ (summum bonum) کی حیثیت اختیار کر لینا اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page