فقہی مسئلہ، شرعی مسئلہ
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
اظہارِ رائے کی آزادی کو مقدس کے طور پر مان لیا جانا۔ اسی طرح جدید میڈیا یا ظہور میں آنا جو گویا گرم خبر (hot-news) کی عالمی ایجنسی ہے، وغیرہ۔ انہی نئے حالات کا یہ نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کی عالمی حمایت کے باوجود سلمان رشدی کو قتل کرنا ممکن نہ ہوسکا۔ مزید یہ ناقابل تلافی نقصان ہوا کہ اسلام ساری دنیا میں بدنام ہو گیا۔ جدید انسان کی نظر میں اسلام کی یہ تصویر بن گئی کہ اسلام خدا ناخواستہ دہشت گردی کا مذہب ہے، وہ اپنے پیروؤں کو مذہبی جنون (fanaticism) کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ نتیجہ تھا بدلے ہوئے زمانہ میں حاکمانہ دور کی فقہ کو نافذ کرنے کا۔ سلمان رشدی کے معاملہ میں موجودہ زمانہ کے مسلمان اگر اجتہاد مطلق کا طریقہ اختیار کرتے تو وہ اس معاملہ میں براہِ راست قرآن وسنت سے روشنی حاصل کرتے اور پھر انہیں معلوم ہو جاتا کہ اس مسئلہ کا حل قتل کا فتوی نہیں ہے بلکہ ردعمل سے بچتے ہوئے پرامن دائرہ میں اپنی دعوتی کوشش کرنا ہے۔ مگر چونکہ وہ اپنے مقلدانہ ذہن کے بنا پر دو راقتدار میں بننے والی فقہ کے اندر اٹکے ہوئے تھے اس لیے ان کو وہی حاکمانہ مسئلہ نظر آیا جو فقہ کی ان کتابوں میں لکھا ہوا تھا: الشَّاتِمُ يُقْتَلُ حَدًّا ۔ یعنی شاتم کو بطور حد قتل کیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader