قول بلا فعل
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
جوش وخروش کے ساتھ اس کو مارنے کی باتیں کر رہے تھے۔ یہ لوگ اگر واقعۃ اپنے کلام میں سنجیدہ ہوتے تو ان میں سے کم از کم چند آدمی کتاب کی اشاعت کے بعد خاموشی سے لندن جاتے اور رشدی کا خاتمہ کر دیتے۔ سلمان رشدی کی کتاب ستمبر 1988 میں شائع ہوئی۔ اس کے بارے میں آیت اللہ خمینی کا قتل کا فتویٰ فروری 1989 میں لوگوں کے سامنے آیا اس کے بعد وہ شور وغل شروع ہوا جس کے نتیجہ میں برطانوی حکومت نے سلمان رشدی کو خفیہ مقام پر منتقل کر دیا اور اس کے اوپر خصوصی پہرہ بٹھا دیا۔ اس کا مطلب یہ کہ کتاب کی اشاعت کے تقریباً 6 مہینے ایسے گزرے ہیں جب کہ سلمان رشدی ایک عام آدمی کی طرح تھا اور ہر شخص اس کے اوپر قابو پا سکتا تھا۔ مگر اس پوری مدت میں لفظی بیان کے سوا کسی مسلمان نے کچھ نہیں کیا۔ یہاں تک کہ سلمان رشدی روپوش ہو کر پولیس کے خصوصی پہرہ میں چلا گیا۔ خود ایران کے آیت اللہ خمینی کو اس معاملہ میں سنجیدہ نہیں کہا جا سکتا۔ اگر وہ سنجیدہ ہوتے تو یقیناً وہ وہی کرتے جو اس طرح کے مواقع میں دوسرے لوگ ہمیشہ کرتے ہیں۔ اگر وہ فی الواقع سنجیدہ ہوتے تو اخباری اعلان کے بجائے وہ ایسا کرتے کہ ایک یا چند آدمی کو نہایت خاموشی کے ساتھ انگلینڈ روانہ کرتے اور اسی کے ساتھ ان کے گھر والوں کو اتنی رقم دے دیتے کہ بحالت ضرورت وہ اپنی آئندہ معاش کے لیے مطمئن ہو جائیں۔ مگر آیت اللہ خمینی نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے بجائے وہ اخبار اور ریڈیو پر اپنے قتل کے فرمان کو نشر کرنے لگے۔ گویا ان کی اصل دلچسپی اپنے فرمانِ قتل کی پبلسٹی سے تھی، نہ کہ خود رشدی کے قتل سے۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت اللہ خمینی سمیت، ان جیسی بولی بولنے والے تمام مسلمان اس معاملہ میں سخت غیر سنجیدہ ثابت ہوئے ہیں۔ ان مسلمانوں کی حالت دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader