Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

قول بلا فعل

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ انہیں مارنا نہیں ہے، بلکہ صرف مارنے کی باتیں کرنا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو مارتے ہیں وہ شور نہیں کرتے، اور جو شور کرتے ہیں وہ کبھی مارتے نہیں۔ سلمان رشدی کی روپوشی یا اس کا پولیس کی حفاظت میں ہونا اس کے خلاف اقدام کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔ صہیونی یہودی بہت سے فلسطینی لیڈروں یا فلسطین نوازوں کو ٹھیک اسی قسم کی رکاوٹوں کے باوجود ہلاک کر چکے ہیں۔ پھر رشدی کے خلاف شورغل کرنے والے مسلمان اپنے اعلان کے باوجود ایسا کیوں نہ کر سکے۔ راقم الحروف قتل کے نعرہ کو ایک لغو اور غیر سنجیدہ فعل سمجھتا ہے۔ اسلام تو درکنار، عقل و دانش سے بھی اس کا کوئی تعلق نہیں۔ تاہم جو لوگ اس کو عین دین و ایمان سمجھتے ہیں وہ آخر کس لیے صرف للکارنے پر قانع ہیں۔ وہ خود آگے بڑھ کر اس کے لیے اقدام کیوں نہیں کرتے، یا اپنے صاحبزادوں کو اس مہم پر کیوں روانہ کرتے۔ یہ مسلمان اگر رشدی کو قتل نہیں کر سکتے تھے تو اس کوشش میں وہ اپنے آپ کو شہید تو کر سکتے تھے۔ مگر وہ نہ قاتل بن سکے اور نہ شہید۔ کس قدر حیرت ناک بات ہے کہ ”رشدی کو قتل کرو“ کا نعرہ لگانے والوں میں سے کسی ایک شخص کے بارے میں بھی یہ خبر نہیں آئی کہ وہ رشدی کو قتل کرنے کے لیے خفیہ طور پر لندن پر پہنچا تھا، لیکن وہاں کی پولیس نے اس کا سراغ لگا کر اس کو گرفتار کر لیا۔ اگر برطانیہ کی پولیس رشدی کو اپنی حفاظت میں لیے ہوئے ہے تو قتل کا نعرہ لگانے والے مسلمانوں یا ان مسلمانوں کی اولادوں میں سے کچھ ایسے لوگ کیوں نہیں نکلے جو مجاہدانہ عزم کے ساتھ لندن پہنچتے۔ وہاں وہ رشدی کی قیام گاہ کو تلاش کرتے، اور جان پر کھیل کر رشدی کو قتل کرنے کی کوشش کرتے۔ اس کے بعد وہ یا تو غازی بنتے یا اسی راہ میں شہید ہو جاتے۔ اس کے برعکس، ہم دیکھتے ہیں کہ قتل کے لیے للکارنے والے تمام لوگ، خواہ وہ آیت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page