Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتے ہیں، نہ کہ ایران یا پاکستان کے۔ انعام دے کر یا جذباتی اپیل کر کے اس طرح ایک غیر ملکی کومروانا گویا انٹرنیشنل بدامنی کو جواز فراہم کرنا ہے۔ اسلام بلا شبہ اس سے بری ہے۔ سلمان رشدی کی کتاب نے تو اسلام کو کوئی حقیقی نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ مگر شیعہ اور سنی علماء جو کچھ کر رہے ہیں وہ بلا شبہ اسلام کو زبردست نقصان پہنچانے کا سبب بنا ہے۔ اس نے اسلام کے دعوتی امکانات کو ناقابل تلافی حد تک برباد کر دیا ہے۔ ان حضرات نے اپنی حرکتوں سے دنیا کو یہ بتایا ہے کہ اسلام وحشت و بربریت کا مذہب ہے۔ اور جس مذہب کی تصویر وحشت و بربریت کی تصویر بنا دی جائے، اس کو کون اپنے لیے پسند کر سکتا ہے۔ اسلام میں دعوت کی مصلحت ہر دوسری مصلحت پر مقدم ہے۔ دعوت کی مصلحت اہم ترین مصلحت کی حیثیت رکھتی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ بار بار ایسے اقدامات کرتے ہیں جس سے انہیں ذاتی طور پرقیادتی فائدہ تو ضرور ملتا ہے، مگر اسلام کے دعوتی امکانات برباد ہو کر رہ جاتے ہیں۔ یہ بلا شبہ سب سے بڑا المیہ ہے جس سے اسلام کی جدید تاریخ دوچار ہے۔ (شائع شدہ ہفت روزہ نئی دنیا، 9-3 مارچ 1989) ایک ملاقات 25 فروری 1989 کو دو امریکی پروفیسر (ایک مرد، ایک عورت) اسلامی مرکز میں آئے انھوں نے اسلامی مرکز کی کچھ انگریزی مطبوعات حاصل کیں اور راقم الحروف سے اسلام کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے: Dr. Peggy Starkey, Dr. Archie L. Nations 12228, Old Creedmoor Road, Raleigh, North Carolina 27613, Telephone: (919) 846-8377 (U.S.A) اس ملاقات کے آخر میں انھوں نے رشدی ۔ خمینی معاملہ میں بھی راقم الحروف کی رائے دریافت کی۔ میں نے کہا کہ سلمان رشدی کے قتل کا ”فتویٰ“ اگر چہ شیعہ امام آیت اللہ خمینی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page