ایک ملاقات
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
نے دیا ہے۔ مگر سنی علماء بھی اس میں شریک ہیں۔ کچھ علماء (مولانا ابوالحسن علی ندوی) نے براہ راست اخباری بیان کے ذریعہ اس سے اتفاق کیا ہے۔ دوسرے علماء، جو خاموش ہیں، وہ بھی عملاً اس فتویٰ میں شریک قرار دیے جائیں گے۔ کیونکہ اس طرح کے معاملات میں خاموشی بالواسطہ تائید کے ہم معنی ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے ذاتی طور پر اس فتویٰ سے صد فی صد اختلاف ہے۔ میں اس کو بالکل ناجائز اور غیر اسلامی سمجھتا ہوں۔ اس سلسلہ میں میں نے ان سے جو باتیں کہیں، ان کا اردو ترجمہ خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔ آیت اللہ خمینی نے کہا ہے کہ سیٹنگ ورسز کے مصنف سلمان رشدی کو قتل کر دیا جائے ۔ بہت سے سنی علماء نے بھی براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس کی تائید کی ہے۔ مگر اسلامی نقطۂ نظر سے یہ صد فی صد غلط ہے۔ 1۔ سلمان رشدی کیوں اس قابل ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے۔ عام طور پر اس کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ وہ توہین رسول یا توہین اسلام کے جرم کا مرتکب ہوا ہے۔ سلمان رشدی کی کتاب میں کچھ ”واقعات“ کو افسانہ کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً ”تِلۡكَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی“ کا قصہ، یا حضرت عائشہ (زوجہ رسول) کو صفوان بن معطل کے ساتھ ملوث کرنے کا قصہ۔ یہ سب قصے پرانے ہیں۔ سلمان رشدی ان کا خالق نہیں ہے۔ سلمان رشدی نے ان واقعات کو دوبارہ ناول کے پیرایہ میں بیان کر دیا ہے۔ پھر جن قصوں کے مصنف اول کو قتل کی سزا نہیں دی گئی، ان کے مصنف ثانی کو کیوں قتل کی سزا دی جائے گی۔ 2۔ اسلام میں کسی جرم کی جو سزا مقرر ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص اٹھے اور بطور خود اس کو لوگوں کے اوپر نافذ کرنا شروع کر دے۔ اسلام میں سزا کا نفاذ عدالتی کاروائی کے ذریعہ کیا جاتا ہے (تفصیل کے لیے دیکھیے زیر نظر کتاب کا موضوع: جہاد یا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader