Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ایک ملاقات

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

سرکشی) ۔ اگر سلمان رشدی نے ایسا جرم کیا ہو جو اسلامی شریعت میں موجب قتل ہے، تب بھی اس کا نفاذ اس طرح نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص بندوق لے کر اس کے پاس جائے اور خود اپنے فیصلے کے تحت اس کو گولی مار دے۔ شرعی جرم کے ارتکاب کے بعد بھی ضروری عدالتی کاروائی کرنا لازمی ہے۔ ضروری عدالتی کاروائی کا بغیر کسی شخص کو قتل کرنا سراسر ناجائز اور غیر اسلامی فعل ہوگا۔ 3۔ اسلامی میں مختلف جرموں کی جو سزائیں مقرر ہیں، ان کا نفاذ صرف مملکت اسلامی میں کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً اسلام میں چوری کرنے والے کے لیے ایک سزا مقرر کی گئی ہے۔ مگر عملی نفاذ کے اعتبار سے اس کا تعلق صرف اسلامی حکومت کے دائرہ سے ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مسلمان دوسری ملکوں جائیں اور وہاں جس کو چور سمجھیں اور اس پر بطور خود اسلامی سزا کا نفاذ شروع کر دیں۔ اب چونکہ سلمان رشدی ایک غیر مسلم ملک (برطانیہ) کا شہری ہے، وہ اسلامی سزا کے دائرہ سے باہر ہے۔ یہ سراسر غیر اسلامی فعل ہوگا کہ کوئی شخص ایران یا پاکستان سے برطانیہ جائے اور وہاں سلمان رشدی کو گولی مار کر یہ کہے کہ اس نے اس کے اوپر اسلامی قانون کا نفاذ کیا ہے اس قسم کا ہر فعل سرکشی ہے، نہ کہ اسلامی قانون کا نفاذ۔ 4۔ سلمان رشدی کے خلاف مسلمان اگر کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اس کو لازماً پرامن دائرہ تک محدود رہنا چاہیے۔ مثلاً مضمون یا کتاب کی صورت میں اس کی تردید کرنا۔ مسلم ملکوں میں اس کی اشاعت اور تقسیم پر پابندی لگانا۔ دوسری حکومتوں سے پرامن قانونی دائرہ میں مطالبہ کرنا، وغیرہ۔ اس سے آگے کسی بھی قسم کی جارحیت اسلامی اعتبار سے جائز نہیں۔ اس معاملہ میں مسلمان اگر جارحانہ انداز اختیار کریں تو یقینی طور پر خدا کے غضب کو دعوت دینے کے ہم معنی ہوگا۔ اگلے صفحہ پر اس خط کی نقل دی جا رہی ہے، جو مذکورہ امریکی پروفیسر نے اپنے وطن واپس پہنچنے کے بعد راقم الحروف کے نام روانہ کیا تھا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page