Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

غلط ترجمانی

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

غلط ترجمانی سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات (Satanic Verses) پر موجودہ لکھنے اور بولنے والے مسلمانوں نے جس شدت کے ساتھ غصہ کا اظہار کیا ہے اس کی کوئی دوسری مثال غالباً جدید دور میں نہیں ملے گی۔ اردو، انگریزی ، عربی اور دوسری زبانوں میں اس کے خلاف کثرت سے بیانات اور مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ ان سب کا خلاصہ وہ ہے جو مسلمانوں کے ایک ترجمان نے ٹائمس آف انڈیا میں ان الفاظ میں بتایا ہے۔ دوسرے کسی بھی انسان کی طرح ، ہم مسلمانوں کے جذبات کو اس وقت ٹھیس لگتی ہے جب کہ ہماری محبوب شخصیتوں کو طوائف کے روپ میں دکھایا جائے : "We, Muslims, like any human being, should be entitled to feel offended when our dearest ones are depicted as prostitutes." (Times of India, 1 March 1989) اس عبارت میں ایک واضح غلطی موجود ہے۔ وہ یہ کہ اس میں مسلمانوں کے رد عمل کے لیے عام انسانوں کے رد عمل کو نمونہ قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ مسلمانوں کے لیے نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ہے، نہ کہ عام انسانوں کی روش میں۔ رسول کی ایذا رسانی پر مسلمانوں کا رد عمل کیا ہو، یہ ایک خالص دینی معاملہ ہے۔ اس کا تعین قرآن وسنت کی روشنی میں کیا جائے گا، نہ کہ عام انسانوں کے سلوک کی روشنی میں۔ اس کے لیے نمونہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک ہے، نہ کہ عام انسانوں کا سلوک۔ سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی بیویاں ہونے کا مذاق اڑایا ہے اور آپ کے گھر کو، نعوذ باللہ، قحبہ خانہ (Brothel) کا نام دیا ہے۔ (صفحہ 376) اسی طرح مصنف نے صفوان ابن معطل کی جھوٹی کہانی کو دہرایا ہے جس میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page