غلط ترجمانی
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
نعوذ باللہ، حضرت عائشہ کے کردار کو داغدار بتایا گیا تھا (صفحہ 387)۔ ام المؤمنین کے بارے میں یہ فرضی کہانی کوئی نئی کہانی نہیں ۔ یہ اولاً 1400 سال پہلے مدینہ میں گھڑی گئی۔ اس کا مصنف اول عبداللہ بن ابی تھا جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا تھا۔ اس کے مجرم ہونے کا ذکر خود قرآن (24:11) میں موجود ہے۔ سلمان رشدی نے اسی کہانی کو بلا تردید لے لیا ہے، کیونکہ وہ اس کے مجرمانہ مقصد کے لیے بہت زیادہ مفید مطلب تھی ۔ اس سے واضح ہے کہ ام المؤمنین کے بارے میں سلمان رشدی نے جو مجرمانہ فعل کیا ہے، اس جرم کا ارتکاب خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ یہ ارتکاب جرم اس وقت ہوا جب کہ پیغمبر اسلام کو مجرم کے اوپر پوری طرح حاکمانہ اختیار حاصل تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے ہر اعتبار سے نمونہ ہے، اس لیے ہمیں دیکھنا چاہیے کہ آپ نے اس وقت مذکورہ جرم کے مجرم کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا۔ تاریخ واضح طور پر بتاتی ہے کہ اس مجرم اول (عبد اللہ بن ابی) کو اس جرم پر کوئی سزا نہیں دی گئی۔ حضرت عمر فاروق نے، حتی کہ خود مجرم کے بیٹے عبداللہ نے، اس کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ترین اذیت کے باوجود، اور یہ جانتے ہوئے کہ وہ ایک ثابت شدہ مجرم ہے، اس کے قتل کی اجازت نہیں دی۔ آپ اس کو چھوڑے رہے، یہاں تک کہ اپنی طبعی موت سے اس کا انتقال ہو گیا۔ یہ ہے نمونہ جو اس طرح کے معاملات میں پیغمبر اسلام نے ہمارے لیے چھوڑا ہے۔ ہمیں اسی نمونہ کو اختیار کرنا ہے۔ عام انسانوں کی روش کا حوالہ دے کر ہنگامہ آرائی کرنا سرکشی کی بات ہے، نہ کہ ایمان و اسلام کی بات۔ سلمان رشدی کی کتاب کی اشاعت کے بعد مسلمانوں نے لایعنی ہنگامے کیے اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader