Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

جلوس کی سیاست

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

جس میں مسلمانوں کی نہایت قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ اس قسم کا اقدام ناقابل فہم حد تک لغو تھا۔ کیونکہ ہندوستان وہ ملک ہے جس نے اس کتاب پر سب سے پہلے قانونی پابندی لگائی۔ حتیٰ کہ پاکستان اور ایران سے بھی پہلے ۔ پھر جب یہاں عملاً اس قابل اعتراض کتاب پر پابندی لگ چکی ہے، ایسی حالت میں ہندوستان میں کتاب کے خلاف جلوس نکالنے میں معقولیت کیا ہے۔ جلوس نکالنے والے لیڈر بظاہر معصوم بن کر یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارا جلوس ہندوستان کے خلاف نہیں بلکہ برطانیہ کے خلاف تھا۔ ہم برطانی سفارت خانہ یا برٹش کونسل کے دفتر تک جا کر وہاں تحریری احتجاج نامہ دینا چاہتے تھے۔ یہ عذر لیڈروں کے جرم میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حضرات تدبر سے بالکل خالی ہیں اس کے باوجود وہ لیڈری کے میدان میں دھوم مچانا چاہتے ہیں۔ جلوس کے سلسلے میں بار بار کا یہ تجربہ ہے جو لوگ انسانی ہجوم کی صورت میں سڑکوں پر آتے ہیں وہ اس وقت بالکل غیر معتدل حالت میں ہوتے ہیں۔ وہ اپنی طاقت کا احمقانہ حد تک غلط اندازہ کرتے ہیں۔ اس بنا پر جو لوگ اس وقت انسانوں کے متحرک ہجوم میں ہوتے ہیں، وہ کم از کم اس وقتی نفسیات کی بنا پر، اپنے آپ کو ”سڑک کا بادشاہ“ سمجھ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت وہ معمولی واقعہ پیش آنے پر مشتعل ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس مصنوعی زعم کے تحت پولیس سے لڑ جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ بظاہر ان کو اپنی تعداد کے مقابلہ میں کم تعداد میں دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر جلوس ہمیشہ تشدد اور خون خرابہ پر ختم ہوتا ہے۔ اس بنا پر سلمان رشدی کے مسئلہ پر جلوس نکالنا سراسر غلط تھا۔ اگر کچھ لوگ چاہتے تھے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page