شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا جو انھوں نے خود اپنی طرف سے گھڑ رکھا تھا، خدا کے بھیجے ہوئے دین سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔ اصل یہ ہے کہ ایک اسلام کا دین ہے، دوسرا ہیرو پرستی کا دین۔ آدمی اگر صحیح معنوں میں اسلام کے دین پر ہو تو اس کے اندر خدا اور رسول دونوں کے ساتھ یکساں درجہ میں تعلق ابھرے گا۔ وہ خدا پر ایمان سے بھی سرشار ہوگا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان سے بھی۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا دین اسلام نہیں ہے بلکہ ہیرو پرستی ہے۔ انھوں نے خدا کو اپنا خدا نہیں بنایا۔ البتہ پیغمبر کو انھوں نے اپنا ہیرو بنالیا ہے۔ پیغمبر ان کا ہیرو ہے ، نہ کہ حقیقی معنوں میں خدا کا رسول۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کی تو ہین کی جائے تو غیر جانبدار بنے رہتے ہیں۔ اور اگر کوئی شخص رسول کے بارے میں توہین کا کلمہ بولے تو فوراً بھڑک اٹھتے ہیں۔ مسلمان اپنے اس خود ساختہ دین پر خوش ہیں۔ مگر انہیں جاننا چاہیے کہ قرآن نے اللہ اور اس کے رسول کے درمیان فرق کرنے والوں کے لیے عذاب کا اعلان کیا ہے ، نہ کہ انعام کا اعلان (4:150)۔ جلوس کی سیاست سلمان رشدی کے مسئلہ کولے کر ہندوستان کے مختلف مقامات مثلاً سری نگر، بمبئی ( فروری 1989) وغیرہ میں مسلمانوں نے سلمان رشدی کے خلاف جلوس نکالا۔ ہر جگہ یہ قصہ پیش آیا کہ جلوس میں شرکت کرنے والے مسلمان کسی ایک یا دوسرے سبب سے مشتعل ہو کر تشدد پر اتر آئے۔ انھوں نے قانون کی خلاف ورزی کی ۔ حتی کہ پولیس کے اوپر پتھراؤ کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس نے گولیاں چلائیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader