Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

نقصان بھی پہنچا سکے۔ چنانچہ یہی بات برطانیہ کی موجودہ خاتون وزیر اعظم مسز مارگریٹ تھیچر نے ان لفظوں میں کہی : "Great religions should be strong enough to withstand such criticisms as were contained in the book." یعنی عظیم مذاہب کو اتنا کمزور نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اس قسم کی تنقید کے مقابلہ میں ٹھر نہ سکیں جو کہ رشدی کی کتاب میں پائی جاتی ہیں ( دی گار جین ، لندن ، 4 مارچ 1989 )۔ پاکستان کی خاتون وزیر اعظم نے کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس معاملہ کو طول دینے سے مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ توہینِ عقیدہ کو دہرانا بھی ویساہی گناہ ہے جیسا بجائے خود توہین کرنا۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کے مدنظر میرے خیال سے بنیاد پرست مذہبی لوگ بھی رشدی کے ناول اور اس کے قابلِ اعتراض موضوعات کی تشہیر کر کے اسی گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں جس کا ارتکاب رشدی نے کیا ہے۔ دونوں یکساں مرزا غلام احمد قادیانی (1908-1839) اور مولانا ثناء اللہ امرتسری ( -1868 1948) دونوں ہم عصر تھے۔ اس زمانہ میں جن علماء نے مرزا غلام احمد قادیانی کا تحریری اور تقریری مقابلہ کیا، ان میں ایک مشہور نام مولانا ثناء اللہ امرتسری کا بھی ہے۔ تردید قادیانیت پر مولانا ثناء اللہ امرتسری نے بے شمار چھوٹی بڑی کتابیں لکھیں۔ ان کے مناظروں اور تحریروں اور تقریروں سے خود مرزا غلام احمد قادیانی تنگ آگئے۔ انھوں نے 15 اپریل 1907 کو ایک تحریر لکھی۔ اس کا عنوان تھا " مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ "۔ اس تحریر میں مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا کہ : " مولوی ثناء اللہ نے مجھے بہت بدنام کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page