Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

دونوں یکساں

Urdu book, p. 137

By Maulana Wahiduddin Khan

میرے قلعہ کو گرانا چاہا۔ اس لیے میں یہ دعا کرتا ہوں کہ ہم دونوں میں جو جھوٹا ہے، وہ سچ کی زندگی میں مر جائے۔“ اس تحریر کے ایک سال بعد 26 مئی 1908 کو مرزا غلام احمد قادیانی کا انتقال ہوگیا۔ دوسری طرف مولانا ثناء اللہ امرتسری مزید 40 سال تک زندہ رہے اور 15 مارچ 1948 کو سرگودھا (پاکستان) وفات پائی۔ اس طرح فیصلۂ خداوندی کے تحت ثابت ہو گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ جھوٹا تھا، اور مولانا ثناء اللہ امرتسری اس کے مقابلہ میں سچ پر کھڑے ہوئے تھے۔ یہ واقعہ مجھے 3 جون 1989 کو یاد آیا جب کہ ریڈیو نے اطلاع دی کہ ایرانی پیشوا آیت اللہ خمینی کا 86 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ آیت اللہ خمینی نے 15 فروری 1989 کو یہ فرمان جاری کیا تھا کہ سلمان رشدی کو قتل کر دیا جائے ۔ اس کے فوراً ہی بعد حکومت ایران نے اپنے خزانے اور اپنے سرکاری ذرائع اس فرمان (یا فتویٰ) کی تعمیل کے لیے وقف کر دیے ۔ اس کے بعد دنیا بھر میں خمینی اور رشدی کا معاملہ سب سے زیادہ سنسنی خیز خبر کی حیثیت سے اخباروں میں چھپتا رہا۔ حکومت ایران نے یہ بھی اعلان کر دیا کہ ایک خفیہ دستۂ موت (death squad) اس قاتلانہ مشن پر روانہ کیا جا چکا ہے۔ مگر حکومت ایران کے مکمل تعاون اور دنیا بھر میں بے شمار شیعہ اور سُنّی مسلمانوں کی بھر پور تائید کے باوجود آیات اللہ خمینی اس میں کامیاب نہ ہو سکے کہ وہ سلمان رشدی کو قتل کرا دیں۔ یہاں تک کہ اپنے فرمانِ موت کے تقریباً چار مہینہ بعد خود آیت اللہ خمینی موت کا شکار ہوگئے۔ مذکورہ دونوں واقعات میں بعض فرق کے ساتھ ایک مشابہت ہے۔ اول الذکر واقعہ میں یہ ثابت ہوا تھا کہ مولانا ثناء اللہ امرتسری حق پر ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی باطل پر۔ ثانی الذکر کا واقعہ میں کسی قدر فرق کے ساتھ یہ ثابت ہوا ہے کہ اس کے دونوں ہی فریق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page