زیادہ بڑا مجرم
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
عرفی کا درجہ رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر لندن کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ 2 جولائی 1989 کی صبح کو لندن کی ایک بہت بڑی کتابوں کی دکان میں بم پھینکا گیا جس کے نتیجہ میں اس کی عمارت کا ایک حصہ برباد ہو گیا۔ شبہ کیا جاتا ہے کہ یہ بم اینٹی رشدی احتجاجیوں نے پھینکا تھا: "Early this morning, one of the largest book stores in central London- Collet's- was partially destroyed by firebomb suspected to have been thrown by anti-Rushdie protesters." (p.14). یہ ٹائمس آف انڈیا (7 جولائی 1989) کی خبر ہے۔ قومی آواز (7 جولائی 1989) کی خبر میں یہ اضافہ ہے کہ لندن کی اس دکان سے کرسمس کے بعد سے "شیطانی آیات" کی کوئی ایک بھی جلد فروخت نہیں کی گئی (صفحہ 2)۔ اس قسم کے واقعات جدید انسان کے لیے وحشت اور بربریت کے ہم معنی ہیں۔ مسلمان اگر ان باتوں کو اپنی قومی سرکشی کے نام پر کرتے تو وہ ان کے قومی خانہ میں لکھا جاتا۔ مگر وہ ان کو پیغمبر اسلام کے نام پر کر رہے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی ہو سکتا ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کے خانہ میں لکھا جائے۔ لوگ یہ سمجھیں کہ پیغمبر اسلام نے اپنے پیروؤں کو جو تعلیم دی ہے وہ یہی ہے۔ رشدی نے "شیطانی آیات" لکھ کر خود اپنے آپ کو بدنام کیا تھا، مگر مسلمان اپنی ان حرکتوں سے خود پیغمبر اسلام کو بدنام کر رہے ہیں، اب ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ دونوں میں سے کون زیادہ بڑا مجرم ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader