Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ کون سی خاص حکمت تھی جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایسا فیضانہ سلوک کیا۔ وہ حکمت یہ تھی کہ بہترین موقع تھا جب کہ انہیں چھوڑ کر ان کو دوبارہ مسخر کر لیا جائے۔ جو لوگ ماضی میں اسلام کے دشمن تھے، ان کو مستقبل میں اسلام کا دوست اور حامی بنا لیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان مجرموں کو معاف کر دیا تو گویا کہ آپ نے ان پر سب سے زیادہ سخت حملہ کیا۔ آپ نے ان کی سابقہ سرکشی اور عناد کو نفسیاتی طور پر قتل کر ڈالا۔ اس غیر معلومی سلوک نے ان کے مصنوعی انسان کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد ان کی ہستی میں جو چیز بچی وہ صرف فطری انسان تھا۔ اس فطری انسان نے عین اپنے اندرونی تقاضے کے تحت اسلام قبول کر لیا۔ زیادہ بڑا مجرم سلمان رشدی کے خلاف مسلمانوں کی موجودہ تحریک ناموس رسول کی حفاظت کے نام پر چل رہی ہے۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو اس تحریک نے صرف رسول کی ناموس کو پامال کرنے کا کام انجام دیا ہے۔ پیغمبر اسلام کی امتیازی حیثیت، قرآن کے مطابق آپ کا پیغمبر رحمت ہونا ہے۔ مگر اس نام نہاد تحریک نے آپ کا تعارف دنیا کے سامنے، نعوذ باللہ، پیغمبر فساد کے روپ میں پیش کیا ہے۔ غالباً یہی وہ صورتِ حال ہے جس کی بابت شاعر اسلام نے کہا تھا: امتی باعثِ رسوائی پیغمبر ہیں سلمان رشدی کے خلاف ایجی ٹیشن میں مسلمانوں نے جگہ جگہ تشدد کے مظاہرے کیے ہیں۔ انھوں نے دوسروں کے جان و مال کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس قسم کا فعل نہ صرف کرنے والے کے لیے ناجائز ہے بلکہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ازالہ حیثیت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page