Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

مصلحت دعوت

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

مصلحتِ دعوت عبداللہ بن ابی مدینہ کا ایک منافق مسلمان تھا۔ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت عناد تھا۔ چنانچہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہایت بے ہودہ قسم کی گستاخیاں کیں۔ آپ کی ازواج مطہرات کے خلاف گھناؤنے الزامات لگائے۔ حتیٰ کہ اس کا مجرم اکبر ہونا خود قرآن (النور، 24:11) میں ثبت کر دیا گیا۔ عبداللہ بن ابی کے اس مجرمانہ فعل کو دیکھ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کو قتل کر دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اگر ایسا کروں تو لوگ چرچا کریں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور آپ کی ازواج مطہرات کی کردار کشی نہایت سنگین بات ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ سنت بتاتی ہے کہ ایک اور بات ہے جو اسلامی نقطۂ نظر سے اس سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اور وہ ہے— لوگوں کو اسلام کی تصویر بگاڑنے کا موقع نہ دینا۔ ایک گستاخِ رسول کو سزا دینے میں اگر یہ اندیشہ ہو کہ لوگ اس کو بہانہ بنا کر اسلام کی دعوتی تصویر کو بگاڑنے کی کوشش کریں گے، تو ایسی حالت میں اسلام کی دعوتی تصویر کی حفاظت کو ترجیح دی جائے گی اور گستاخِ رسول کی سزا کے معاملہ کو اللہ کے حوالہ کر دیا جائے گا۔ اسلام میں سب سے زیادہ قابلِ لحاظ چیز دعوت اور دعوت کا مفاد ہے۔ بقیہ چیزوں کا درجہ اس کے بعد آتا ہے۔ اسلام کے اس تقاضے کی روشنی میں موجودہ مسلمانوں کے اس شدید ردِّ عمل پر غور کیجیے جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page