مصلحت دعوت
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
انہوں نے سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف ساری دنیا میں ظاہر کیا ہے۔ اس معاملہ میں یقینی تھا اور ہے کہ سلمان رشدی کو اگر قتل کر دیا جائے، یا اس کے خلاف قتل کا ’’فتویٰ‘‘ جاری کیا جائے تو عالمی پریس اور غیر مسلم صحافت اس کو بہت بڑے پیمانے پر اسلام کی تصویر بگاڑنے کے لیے استعمال کرے گا۔ عبداللہ بن ابی کے قتل پر قدیم زمانہ میں اسلام کو بدنام کرنے کا جو عمل کیا جاتا اس کا اثر مدینہ یا زیادہ سے زیادہ عرب تک محدود رہتا، مگر سلمان رشدی کے معاملہ میں اس کا زبردست اندیشہ تھا کہ اس کے خلاف قتل کے فتویٰ کو لے کر سارے کرۂ ارض پر اسلام کو بدنام کرنے کی مہم جاری کر دی جائے گی، جیسا کہ فی الواقع ہوئی۔ سلمان رشدی کے معاملہ میں غور کرنے کا سب سے زیادہ قابلِ لحاظ پہلو یہی ہے مگر یہی وہ پہلو ہے جس کو موجودہ مسلم رہنماؤں نے اور ان کی پیروی میں عام مسلمانوں نے سب سے زیادہ نظر انداز کیا ہے۔ اس معاملہ میں مسلمانوں نے بلاشبہ اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے، نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی۔ رسول کے نام پر رسول کے طریقہ کی خلاف ورزی کی اس سے زیادہ سنگین مثال شاید پوری اسلامی تاریخ میں نہیں ملے گی۔ نیویارک کے ٹائم میگزین (20 مارچ 1989ء) میں اٹا وہ کے عبدالحسین ماجد کفائی کا خط چھپا ہے۔ وہ سلمان رشدی کی کتاب کو قابلِ مذمت کتاب قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ زیادہ بہتر تھا کہ رشدی کو زندہ رہنے دیا جائے اور تمام لوگ اس پر لعنت کریں، بمقابلہ اس کے کہ رشدی کو قتل کر دیا جائے اور تمام لوگ مسلمانوں پر لعنت کریں: "It is better to let Rushdie live and be condemned by fanatical Muslims rather than have him killed and, as a result, the entire Muslim world be cursed."

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader