Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

مصلحت دعوت

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

راقم الحروف عبد الحسین ماجد کفائی کے اس تبصرے سے متفق ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت میں مقام محمود پر فائز کیے جا چکے ہیں۔ آپ کی شخصیت اس سے اعلیٰ و ارفع ہے کہ کسی ”رُشدی“ کی تحریریں اس کو ادنیٰ درجہ میں بھی داغدار کر سکیں۔ مگر رُشدی کے خلاف مسلمانوں نے قتل کا فتویٰ دے کر جو ہنگامہ برپا کیا۔ اس نے اسلام معاندین کو اس بات کا سنہری موقع دے دیا کہ وہ اس کو لے کر اسلام کو بدنام کریں۔ وہ تمام دنیا کو یہ تاثر دیں کہ اسلام ایک خونخوار مذہب ہے، وہ قتل و خون کا دین ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو سلمان رُشدی کے خلاف ہنگامہ کر کے مسلمانوں نے پایا کچھ نہیں، البتہ انھوں نے ایک بڑی چیز کھودی اور جو چیز انھوں نے کھوئی وہ وہی چیز ہے جو اسلام میں سب سے زیادہ قابل لحاظ حیثیت رکھتی ہے اور وہ ہے دعوت اسلامی کے مواقع۔ قدیم عرب میں جو ”میڈیا“ اہل کفر کے پاس تھا وہی میڈیا اہل اسلام کے پاس بھی تھا۔ اس معاملہ میں دونوں برابر تھے۔ موجودہ زمانہ میں صورت حال بالکل مختلف ہو گئی ہے۔ آج عالمی صحافت کا زمانہ ہے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس ایک بھی ایسا اخبار یا ایسا میگزین نہیں جو عالمی سطح پر پھیلے اور تمام قوموں کے درمیان پڑھا جائے۔ دوسری طرف غیر مسلم اقوام کا حال یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر عالمی صحافت پر قابض ہیں۔ ان کے پاس ایسے اخبار ورسائل ہیں جو کروڑوں کی تعداد میں چھپتے ہیں اور ساری دنیا میں پڑھے جاتے ہیں۔ اس فرق نے بے حد نازک صورت حال پیدا کردی ہے۔ وہ یہ مسلمانوں کی بات صرف ان کے مقامی یا گروہی پرچوں میں چھپتی ہے، وہ اس کو خود ہی چھپاتے ہیں اور خود ہی پڑھتے ہیں۔ جبکہ فریق ثانی کا یہ حال ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف باتوں کو اپنے عالمی پرچوں میں چھاپتا ہے اور دن رات کے اندر ساری دنیا میں پھیلا دیتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page