Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

حالات سے بلند ہو کر

Urdu book, p. 198

By Maulana Wahiduddin Khan

حالات سے بلند ہو کر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مکی دور میں پیغمبر اسلام کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا تھا، جو سلوک دوسرے پیغمبروں کے ساتھ کیا گیا، یعنی استہزا (الحجر 15:11)۔ مگر پیغمبر اسلام کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہمیشہ منفی واقعات کا جواب مثبت انداز میں دیتے تھے۔ اس سلسلے میں ایک روایت حدیث کی کتابوں میں اس طرح آئی ہے، پیغمبر اسلام نے کہا: أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ يَشْتُمُونَ مُذَمَّمًا وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3533)۔ یعنی کیا تم کو یہ بات عجیب نہیں معلوم ہوتی کہ اللہ مجھ سے قریش کے سب وشتم اور لعنت کو کس طرح دور کر رہا ہے ۔ مجھے وہ مذمم کہہ کر شتم کرتے ہیں، مذمم کہہ کر وہ مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں۔ حالانکہ میں محمد ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قریش کے لوگ اپنی بڑھی ہوئی مخالفت کی بنا پر اس کو پسند نہیں کرتے کہ وہ میرا اصل نام بولیں، اور میرے خلاف جو کہنا چاہتے ہیں، وہ میرا نام لے کر کہیں ۔ انھوں نے مخالفت کے جوش میں بطور خود میرا نام محمد کے بجائے مذمم رکھ دیا، اور وہ مذمم کا نام بول کر میرا سب وشتم کرتے ہیں۔ یعنی وہ سب وشتم تو کرتے ہیں، لیکن جس شخص کی وہ سب وشتم کرتے ہیں، اس کا نام انھوں نے بطور خود مذمم رکھ دیا ہے ۔ اس طرح ان کے اپنے کہنے کے مطابق ان کی بات کسی ایسے شخص پر پڑتی ہے جس کا نام مذمم ہو، وہ شخص جس کا نام محمد ہے اس پر ان کی بات پڑتی ہی نہیں۔ یہ اعلیٰ سوچ کی ایک انوکھی مثال ہے۔ پیغمبر اسلام چوں کہ مکمل طور پر مثبت سوچ پر قائم تھے اس لیے انھوں نے ایک لطیف اسلوب میں قریش کے سب وشتم کو بے حقیقت کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ جب وہ میرا اصل نام لے کر مجھے کچھ نہیں کہتے تو وہ خود ہی اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page