حالات سے بلند ہو کر
Urdu book, p. 199
By Maulana Wahiduddin Khan
سب وشتم کو کسی اور کے اوپر ڈال رہے ہیں۔ یعنی کسی مفروضہ مذمم پر، نہ کہ اس شخص پر جس کا نام اس کے ماں باپ نے محمد رکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسوہ محمدی میں سب وشتم پرمشتعل ہونا نہیں ہے، اور نہ شاتم کو قتل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ بلکہ اس سے لطیف پیرائے میں اعراض کرنا ہے۔ یہ بلند اخلاقی کا معاملہ ہے، نہ کہ قانونی سزا کا معاملہ۔ یہی معاملہ شاتم رسول کی سزا کا ہے۔ مسلم فقہاء نے عام طور پر اتفاق کر لیا ہے کہ شتم رسول ایک قابل دست اندازی جرم (cognizable offence) ہے۔ ایسے شخص کو بطور حد قتل کیا جائے گا: ”قَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ: أَجْمَعَ عَوَامُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّ حَدَّ مَنْ سَبَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَتْلُ“ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول، ابن تیمیہ، صفحہ 3)۔ یعنی اکثر اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب وشتم کیا، اس کی حد قتل ہے۔ اس مسئلہ میں اگر چہ بڑے بڑے علماء کے نام ہیں، لیکن یہ مسئلہ بلا شبہ ایک اجتہادی خطا کا مسئلہ ہے۔ اب علماء اسلام پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ اعلان کریں کہ شاتم رسول کے قتل کا مسئلہ شرعی مسئلہ نہ تھا، وہ اجتہادی خطا کا مسئلہ تھا۔ اب ہم اس کو ہمیشہ کے لیے ختم کرتے ہیں۔ جس انسان کو شاتم رسول قرار دیا جاتا ہے، وہ زیادہ درست طور پر مدعو ہوتا ہے، اور مدعو کے لیے نصیحت اور دعوت ہے، نہ کہ قتل۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader