اسلام قبول کرنے کے بعد
Urdu book, p. 225
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ہنگامی صورتِ حال ایک مہینہ تک جاری رہی۔ یہاں تک کہ سورہ النور کی آیتیں (21-11) اتریں۔ ان آیات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ عائشہ مکمل طور پر معصوم اور بے قصور ہیں۔ اس معاملہ میں سارا جرم یک طرفہ طور پر عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کا ہے۔ اس طرح یہ سنگین معاملہ براہِ راست خدائی مداخلت کے ذریعہ ختم ہوا۔ عبداللہ بن ابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھتا تھا۔ اس کے باوجود اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل بیت کے ساتھ اتنا بڑا بہتان تراشا۔ خود قرآن کی گواہی کے مطابق، اس معاملہ میں عبداللہ بن ابی سب سے بڑا مجرم تھا (24:11)۔ قرآن میں اس کے ابلیسی جرم کا اعلان کیا گیا، مگر اس کے لیے کوئی قانونی سزا تجویز نہیں کی گئی۔ اس کی سزا کے معاملہ کو تمام تر آخرت پر چھوڑ دیا گیا۔ چنانچہ وہ اس واقعہ کے بعد زندہ رہا، یہاں تک کہ مدینہ میں اپنی طبعی موت سے مر کر وہ اپنا حساب دینے کے لیے خدا کے یہاں چلا گیا۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک موقع پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبداللہ بن ابی کی بابت کہا کہ اے خدا کے رسول ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں: أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ (المجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 8100)۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ نے اس کے لیے ایک موقع پر یہ فرمایا کہ ہم اس کے ساتھ نرمی برتیں گے اور بہتر سلوک کریں گے، جب تک یہ ہمارے درمیان رہے: بَلْ نَتَرَفَّقُ بِهِ وَنُحْسِنُ صُحْبَتَهُ مَا بَقِيَ مَعَنَا (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 293)۔ عبداللہ بن ابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جو کچھ کیا، وہ آپ کی اور آپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader