اسلام قبول کرنے کے بعد
Urdu book, p. 224
By Maulana Wahiduddin Khan
چلنے پر مامور تھے۔ میدان میں ایک خاتون کو دیکھ کر وہ فوراً سمجھ گئے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ (عائشہ) ہیں۔ ان کی زبان سے نکلا: انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس کے سوا انھوں نے کوئی کلام نہ کیا۔ صرف اپنا اونٹ لا کر حضرت عائشہ کے پاس بٹھا دیا۔ حضرت عائشہ اشارہ سمجھ کر اونٹ پر سوار ہو گئیں۔ اس کے بعد وہ اونٹ کی نکیل پکڑ کر تیزی سے آگے کی طرف روانہ ہو گئے۔ دوپہر کے قریب یہ اونٹ مسلمانوں کے قافلہ سے جا ملا جبکہ وہ اگلے مقام پر ٹہرا ہوا تھا۔ ابن ابی ملیکہ نے عروہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عائشہ جب اس طرح قافلہ میں پہنچی تو منافقین کے ایک گروہ نے ان کو دیکھ لیا جو عبد اللہ بن ابی کے ساتھ وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ ان کے سردار عبد اللہ بن ابی نے پوچھا یہ کون ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ عائشہ ہیں۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم، نہ یہ بچی ہیں اور نہ وہ ان سے بچا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ تمہارے پیغمبر کی بیوی نے ایک غیر شخص کے ساتھ رات گزاری، یہاں تک کہ صبح ہو گئی، اب وہ ان کو لے کر آرہا ہے: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اُبَیّ، رَئِیسُھُمْ: مَنۡ ھٰذِہِ؟ قَالُوا: عَائِشَۃُ قَالَ: وَاللّٰہِ مَا نَجَتۡ مِنْہُ وَمَا نَجَا مِنْھَا، وَقَالَ: اِمْرَاَةُ نَبِیِّکُمْ بَانَتۡ مَعَ رَجُلٍ حَتّٰی اَصْبَحَتۡ ثُمَّ جَاءَ یَقُودُ بِھَا (تفسیر البغوی، جلد 6، صفحہ 23)۔ اس کے بعد جب یہ قافلہ مدینہ پہنچا تو عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی سرگرم ہو گئے۔ انھوں نے اس معاملے کو پروپیگنڈا کا ایشو بنایا اور اس کو بھر پور طور پر آپ کے خلاف استعمال کیا۔ یہاں تک کہ سارے شہر میں ہنگامی حالت پیدا ہو گئی۔ ہر طرف اس کا چرچا تھا، ہر زبان پر اسی کا تذکرہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدید ذہنی اذیت میں مبتلا تھے۔ حضرت عائشہ کا یہ حال تھا کہ رات دن روتی رہتی تھیں۔ اس قصہ کی تفصیلات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader