خدائی ضمانت
Urdu book, p. 228
By Maulana Wahiduddin Khan
گئیں مگر یہاں نتیجہ بالکل مختلف رہا۔ یہاں ان کے دشمنوں کو اپنے مقصد میں پوری کامیابی حاصل ہوئی۔ سابق پیغمبروں کے دشمنوں نے ان کی سیرت اور ان کی تعلیمات کو بگاڑنا یا معدوم کر دینا چاہا۔ اور عملاً بگاڑ دیا یا معدوم کر ڈالا۔ حضرت نوح سے لے کر حضرت مسیح تک ہر پیغمبر کے خلاف انھوں نے اپنی تحریفی کوشش کی اور ہر بار وہ اپنی کوشش میں پوری طرح کامیاب رہے۔ انسانی تاریخ کا جو مدوّن ریکارڈ ہے، اس میں پچھلے تمام پیغمبروں کو حذف کر دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر مصر کی قدیم تاریخ میں فرعون کا ذکر ہے مگر موسیٰ کا اس میں کوئی ذکر نہیں۔ فلسطین کی تاریخ سے مسیح کا ذکر حذف ہے، جب کہ آپ کے ہم عصر رومی حکمرانوں کا ذکر اس میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ قرآن کے علاوہ، پچھلے پیغمبروں کی بابت جاننے کا واحد ذریعہ بائبل ہے اور بائبل کا یہ حال ہے کہ اس میں تمام پیغمبروں کو مسخ شدہ حالت میں پیش کیا گیا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں بائبل کا بیان ہے کہ نوح کا آشنکاری کرنے لگا۔ اس نے ایک انگور کا درخت لگایا، اور اس نے اس کی مے پی اور اسے نشہ آیا اور وہ اپنے ڈیرہ میں برہنہ ہو گیا اور کنعان کے باپ حام نے اپنے باپ کو برہنہ دیکھا (پیدائش، 21: 9- 2)۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حوالہ بائبل میں ملتا ہے۔ مگر اس میں آپ کی غیر متعلق خاندانی باتوں کا ذکر تفصیل کے ساتھ موجود ہے، مگر آپ کی دعوت توحید کا اس میں سرے سے کوئی ذکر نہیں (دیکھیے، بائبل کی کتاب پیدائش، باب 15)۔ حضرت لوط علیہ السلام ایک سچے پیغمبر تھے۔ مگر بائبل میں ان کی تصویر یہ دی گئی ہے کہ ان کی دو بیٹیوں نے ان کو مے پلایا اور رات کے وقت ان کے ساتھ ہم آغوش ہوئیں۔ اور پھر لوط کی دونوں بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہوئیں (پیدائش، 33: 19)۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ کی چمک قرآن کے مطابق ایک خدائی نشان تھی (12: 27; 22: 20)۔ مگر بائبل کا بیان ہے کہ موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر اسے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader