Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

اسلام مغربی لٹریچر میں

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

نئے بین الاقوامی نقطہ نظر کا پیغامبر بنا۔ گوئٹے نے اپنی زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حالات پر ایک نظم شروع کی مگر وہ اس کو مکمل نہ کر سکا۔ گوئٹے یہ یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھا کہ عربی پیغمبر ایک مکار شخص تھا۔ سعدی کی گلستان کے جرمن ترجمے نے خاص طور پر گوئٹے کو بہت متاثر کیا۔ 1812 میں حافظ کے کلام کا جرمن زبان میں ترجمہ ہوا تو گوئٹے کو اس میں حکمت، تقدس اور سلامتی نظر آئی جو اس کے خیال میں مغرب کو خاص طور پر درکار تھی۔ اسلامی کلچر کے بارے میں مغربی علماء کا بدلا ہوا نقطہ نظر جس کا آغاز انگریز اور فرانسیسی پروفیسروں نے کیا تھا اور جرمن اور دوسرے ادیبوں اور شاعروں نے جس کو تقویت دی تھی، وہ انیسویں صدی کے وسط تک بالکل واضح ہوگیا۔ کارلائل کا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبرانہ ہیرو کے کردار کے لیے منتخب کرنا، بیک وقت نئے رجحان کی طرف اشارہ تھا۔ اور اس میں اضافہ کرنے والا بھی تھا۔ کارلائل کی کتاب میں مشکل سے کوئی ناخوشگوار فقره ہوگا۔ در حقیقت یہ کتاب اس لیے قابل تنقید ہوسکتی ہے کہ وہ غیر تنقیدی ہے۔ "محمد ایک سازشی مکار ہیں، وہ جھوٹ کا مجسمہ ہیں۔ ان کا مذہب محض عطائی نسخوں کا مجموعہ ہے“۔ اس قسم کی باتیں کارلائل کو گوارا نہیں تھیں ۔ اس کا ہیرو (محمد) واقعی ایک انسان تھا، سچا انسان۔ (۱) (۱) فلپ ہٹی کے مضمون کا مآخذ درج ذیل کتابیں ہیں: 1. Latin translation in Migne Patrologiae Graecae, vol. XCIV (Paris, 1860), cols. 1585-1598; vol. XCVI (1864), cols. 1335-1348. 2. Inferno, XXVIII, 31-32 3. Theodor Bibliander, Historiae Saracenorum in Machvometis Saracenorum principis (Zurich, 1550), pp. 3-6. 4. Lydgate's Fall of Princes, ed. Henry Bergen, Part III (Washington, 1923), p. 921. 5. Romeo and Juliet, III, v, 184; I Henry IV, II, iii, 88. 6. Works of Francis Bacon, vol. II (London, 1824), p. 279. 7. The True Nature of Imposture fully Display'd in the Life of Mahomet, 8th ed. (London, 1723), p. 38. اگلے صفحہ کا بقیہ:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page