اسلام مغربی لٹریچر میں
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
نے راست گوئی سے کام لیا ہے۔ شام کی فتح کا حال بتاتے ہوئے، مثال کے طور پر، وہ بازنطینیوں کی غارت گری اور دغا بازی کا مقابلہ ابو بکر کی شجاعت اور ان کے اعلیٰ رویہ سے کرتا ہے، جن کو خلیفہ کی ہدایت تھی کہ کسی عورت یا بچہ کو قتل نہ کریں۔ کھجور کے درخت نہ کاٹیں اور نہ کھیت کو نقصان پہنچائیں۔ آکلے کی اس کتاب نے مستند درجہ حاصل کیا اور گبن کے ظہور سے پہلے تک وہ عرب تاریخ پر بنیادی ماخذ سمجھی جاتی رہی۔ ایڈورڈ گبن (Edward Gibbon) جو جدید انگریزی تاریخ کا بانی ہے، اس نے اپنی مشہور کتاب ’’سلطنت روما کا زوال‘‘ کی پانچویں جلد کے پچسویں باب کو موضوع کے لیے مخصوص کیا ہے۔ اپنے اعتراف کے مطابق وہ ’’مشرقی زبانوں سے مکمل طور پر نا واقف‘‘ تھا۔ اس لیے قدرتی طور پر اس کا ماخذ وہی کتابیں تھیں جو اس سے پہلے یورپ میں لکھی گئی تھیں اور اس بنا پر اس کی ترجمانی بھی واقعہ کے مطابق نہ ہوسکی۔ تاہم اس نے بہت سی روایات کو غلط قرار دیا مثلاً اس نے کہا کہ مکار نبی کا لقب ایک خطر ناک اور ناقابلِ اعتبار (Perilous and Slippery) چیز ہے۔ فرانس میں والٹیئر (Voltaire) پیدا ہوا جو بحیثیت مورخ زیادہ محتاط تھا مگر بحیثیت المیہ نگار (Tragedian) محتاط نہیں تھا۔ اپنی تاریخی کتاب 1756ء میں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر رواداری کے ساتھ کرتا ہے۔ وہ محمد کا مقابلہ کرامویل (Cromwell) سے کرتا ہے۔ وہ ان کے کارناموں کو انگلینڈ کے نجات ہندہ (کرامویل) سے بہت زیادہ قرار دیتا ہے مگر اپنے المیہ (Tragedy) ناٹک 1742ء میں وہ محمد کو قرون وسطیٰ کے لباس میں مکار، ظالم، اور عیاش بنا کر پیش کرتا ہے۔ اگر چہ یہ بھی حقیقت ہے کہ والٹر کا اسلام پر حملہ، عمومی طور پر اس کے مخالف مذہب ہونے کا نتیجہ تھا۔ والٹر کا انحصار انگریزی ماخذ پر تھا۔ خاص طور پر سیل کا ترجمہ قرآن کیوں کہ وہ انگلینڈ میں رہا تھا اور انگریزی زبان سیکھی تھی۔ والٹیئر سے زیادہ جرمن شاعر گوٹے (1832-1749) وہ شخص تھا جو جدید اسپرٹ اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader