ہجر جمیل
Urdu book, p. 257
By Maulana Wahiduddin Khan
ہجر جمیل کے لفظی معنی ہیں، خوبصورتی کے ساتھ چھوڑنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ستانے والوں کے ساتھ حسن اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ ان کے معاملہ میں تمہارا طریقہ منفی ردعمل کا طریقہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ مثبت ردعمل کا طریقہ ہونا چاہیے۔ تم کو چاہیے کہ اُن کے معاملہ میں درگزر کرو، اور اُن کے برے انداز کے مقابلہ میں تم اُن کے ساتھ اچھا انداز اختیار کرو۔ مفسرین نے عام طور پر یہ لکھا ہے کہ صبر اور ہجر جمیل کا یہ حکم آیات قتال کے نزول کے بعد منسوخ ہو گیا۔ مگر یہ ایک غلط تفسیر ہے۔ ہجر جمیل (حسن اعراض) کوئی مجبوری کا فعل نہیں ہے، یہ اہلِ ایمان کا ایک مثبت رویہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن منفی ردعمل کا تحمل نہیں کر سکتا۔ شکایت کی نفسیات شکر کے جذبہ کی قاتل ہے اس لیے مومن یک طرفہ طور پر شکایت کے جذبات کو ختم کرتا ہے تا کہ اُس کے اندر شکر کا جذبہ مجروح نہ ہونے پائے۔ اسی طرح نفرت کی نفسیات محبت کے جذبہ کی قاتل ہے اس لیے مومن نفرت کی نفسیات کو اپنے اندر پنپنے نہیں دیتا تا کہ اُس کے اندر محبت الہی کا جذبہ پوری طرح باقی رہے۔ اس کام کو کبھی سختی سے کرنا پڑتا ہے اور کبھی حسن تدبیر سے۔ ہجر جمیل (حسن اعراض) بظاہر دوسرے کے مقابلہ میں ہوتا ہے مگر اُس کا تعلق خود اپنی ذات سے ہے۔ مومن آخری حد تک یہ چاہتا ہے کہ اُس کے اندر اعلیٰ اسلامی احساس ہمیشہ زندہ رہے۔ کسی بھی حال میں اُس کے اندر کی (erosion) نہ ہونے پائے۔ قرآن کے مطابق ، اللہ نے کسی انسان کے اندر دو دل نہیں بنائے (33:4)۔ یعنی انسان کے دل میں بیک وقت دو متضاد نفسیات پرورش نہیں پا سکتیں ۔ جو دل انسان سے نفرت کرے، عین اُسی وقت وہ خدا سے محبت نہیں کر سکتا۔ جس دل کے اندر انسانوں کے بارے میں شکایات بھری ہوئی ہوں وہ دل کبھی خدا کے شکر سے سرشار نہیں ہو سکتا۔ جس آدمی کا سینہ انتقامی نفسیات کا جنگل بنا ہوا ہو، وہ خدا سے طلب عفو کی لذت کا تجربہ نہیں کر سکتا۔ جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader