ہجر جمیل
Urdu book, p. 256
By Maulana Wahiduddin Khan
ہجر جمیل قرآن کی سورہ المزمل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: وَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا (73:10)۔ اُردو مترجمین نے اس آیت کے جو ترجمے کیے ہیں اُن میں سے چند یہاں نقل کیے جاتے ہیں: 1۔ اور سہتا رہو کہتے رہیں اور چھوڑ اُن کو بھلی طرح کا چھوڑنا (شاہ عبد القادر) 2۔ اور یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں اُن پر صبر کرو اور خوبصورتی کے ساتھ اُن سے الگ ہو جاؤ۔ (اشرف علی تھانوی) 3۔ اور سہتا رہو جو کچھ وہ کہتے رہیں اور چھوڑ دے اُن کو بھلی طرح کا چھوڑنا۔(محمود حسن، دیوبندی) 4۔ اور یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اُس پر صبر کرو اور اُن کو خوبصورتی سے نظر انداز کر۔(امین احسن اصلاحی) اس آیت کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو وہ اس طرح ہوگا: "Endure patiently whatever they say, and avoid them in a decent manner." قرآن کی یہ آیت مکی دور میں اُتری۔ اْس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ رسول اور اصحاب رسول نے اُن کے آبائی دین سے انحراف کیا ہے۔ اس بنا پر وہ لوگ رسول اور اصحاب رسول کو ستانے لگے۔ انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائیں۔ اس ماحول میں قرآن کی یہ آیت اُتری۔ اس میں خدا کی طرف سے یہ حکم دیا گیا کہ تم لوگ صبر کرو اور ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کرو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader