ہجر جمیل
Urdu book, p. 259
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح کے حسن اعراض کی ایک دلچسپ مثال ڈاکٹر ذاکر حسین (1969-1897) کے یہاں پائی جاتی ہے۔ ایک بار وہ دہلی کی ایک سڑک پر اپنی گاڑی چلا رہے تھے، اتفاق سے اُن کی گاڑی ایک اور شخص کی گاڑی سے معمولی طور پر ٹکرا گئی۔ اُن کی گاڑی میں رگڑ (dent) آ گیا۔ اُس آدمی نے ابھی نئی گاڑی لی تھی۔ وہ گاڑی روک کر اترا۔ ذاکر صاحب بھی اپنی گاڑی روک کر اُتر گئے۔ اُس آدمی نے ذاکر صاحب کی طرف غصہ سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ایڈمیٹ (idiot) ۔ اس انگریزی لفظ کے معنی ہوتے ہیں، احمق ۔ ذاکر صاحب نے جوابی غصہ نہیں دکھایا۔ انہوں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے نرمی سے کہا: Sir, I am not Mr. Idiot, I am Zakir Husain. جناب، میں مسٹر ایڈمیٹ نہیں ہوں، میں ذاکر حسین ہوں۔ یہ سُن کر اُس آدمی کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ ساری (sorry) کہہ کر وہ خاموشی کے ساتھ اپنی گاڑی پر بیٹھا اور آگے کے لیے روانہ ہو گیا۔ 2 - ہجرت کے بعد حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا۔ مکہ کے سرداروں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے صحابہ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اُس وقت حدیبیہ کے مقام پر دونوں فریقوں کے درمیان ایک معاہدۂ امن تیار کیا گیا۔ اس معاہدہ کے وقت قریش نے ضد کا مظاہرہ بھی کیا اور تشدد کا مظاہرہ بھی۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اُن کی یک طرفہ شرطوں پر معاہدہ کیا جائے۔ اصحاب رسول کو اس سے بے حد تکلیف ہوئی۔ اس طرح کی شرطوں پر معاہدہ کرنا اُن کو بظاہر ایک ذلت کا معاہدہ معلوم ہوتا تھا۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ : لَا تَدْعُونِي قُرَيْشُ الْيَوْمَ إِلَى خُطَّةٍ يَسْأَلُونَنِي فِيهَا صِلَةَ الرَّحْمِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا ( سیرت ابن ہشام ، جلد 2، صفحہ 310 ) ۔ یعنی قریش آج جو خا کہ بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader