ہجر جمیل
Urdu book, p. 260
By Maulana Wahiduddin Khan
پیش کریں گے، بشرطیکہ اُس میں صلہ رحمی کو ملحوظ رکھا گیا ہو، میں ضرور اُس پر راضی ہو جاؤں گا۔ دشمن کی یک طرفہ شرطوں کو ماننا ایک سخت ناگوار معاملہ تھا۔ مگر آپ نے مذکورہ بات کہہ کر اس ناگوار کو ایک خوش گوار معاملہ بنا لیا۔ پیغمبر اسلام کا یہ قول ہجر جمیل کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔ قدیم عربوں کے نزدیک صلہ رحمی بہت بڑی انسانی قدر سمجھی جاتی تھی۔ اور قطع رحمی کو وہ بہت بُرا سمجھتے تھے۔ اس لیے اس کا سوال ہی نہ تھا کہ وہ معاہدہ کے لیے ایسا خاکہ پیش کریں جس میں قطع رحم کی دفعہ رکھی گئی ہو ۔ باعتبارِ حقیقت رسول اللہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ میں ہر قیمت پر قریش سے صلح کرلوں گا۔ اس بات کو کہنے کے باعزت طریقہ کے طور پر آپ نے فرمایا کہ میں قریش کی طرف سے صُلح کے ہر خاکا کو منظور کرلوں گا بشرطیکہ اُس میں قطع رحم نہ پایا جاتا ہو۔ حالانکہ پیشگی طور پر یہ معلوم تھا کہ وہ قطع رحم کی شرط کبھی نہیں رکھیں گے۔ 3- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو جلد ہی یہاں کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اُس وقت مدینہ میں ایک شخص تھا جس کا نام عبد اللہ بن اُبی تھا۔ وہ اپنے زمانہ کا ایک بڑا لیڈر تھا۔ وہ بھی اگر چہ اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ اسلام میں داخل ہو گیا۔ مگر اُس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حسد کا جذبہ تھا جس کی وجہ سے وہ اکثر آپ کے خلاف شر انگیز باتیں کیا کرتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ کا ذکر مدینہ کے ایک مسلمان اُسید بن حضیر سے کیا۔ انہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: یَا رَسُولَ اللهِ ! أَرْفِقْ بِهِ فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَنَا اللَّهُ بِكَ، وَإِنَّا لَنَنْظِمُ لَهُ الْخَرَزَ لِنُتَوَّجَهُ . فَوَاللَّهِ إنَّهُ لَيَرَى أَنْ قَدْ سَلَبْتَهُ مُلْكًا (سیرت ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ (292) یعنی اے خدا کے رسول ، اُس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیجیے، خدا کی قسم، اللہ آپ کو ہمارے پاس لے آیا اور اُس کی قوم کے لوگ اُس کے لیے جواہر کا تاج

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader