Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ہجر جمیل

Urdu book, p. 261

By Maulana Wahiduddin Khan

تیار کر رہے تھے تا کہ وہ اُس کو بادشاہ بنائیں۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ نے اُس کا مقام اُس سے چھین لیا ہے۔ یہ حسن اعراض کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔ ایک صورت یہ تھی کہ عبداللہ بن ابی کی شر انگیزی کا جواب سختی کے ساتھ دیا جاتا۔ صحابی نے گو یا اپنے جواب میں یہ بتایا کہ اس معاملہ میں سختی کی ضرورت نہیں۔ حسن اعراض ہی اس مسئلہ کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ 4۔ اوپر ہجر جمیل کی وہ مثالیں ہیں جو سطور میں ہوتی ہیں۔ اب ایک بین السطور کی مثال لیجیے۔ جب کسی معاملہ میں ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اُس میں ایک اور بات پوشیدہ ہوتی ہے جو اگر چہ زبان سے بولی نہیں جاتی مگر وہ حقیقی مطلوب کے طور پر اس میں شامل رہتی ہے۔ اس کی ایک مثال حدیبیہ کا معاہدہ ہے۔ حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہفتہ قیام فرمایا۔ اس دوران قریش نے مختلف قسم کی زیادتیاں کیں۔ مثلاً ایک صحابی کو تنہا پا کر اُنہیں تیر مار کر ہلاک کر دیا۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ با جماعت نماز ادا کر رہے تھے، اتنے میں قریش کے کچھ لوگ آئے اور آپ پر تیر برسانے لگے۔ اس طرح کی اشتعال انگیز صورت حال کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے دس سال کا امن معاہدہ کر لیا۔ اس معاہدہ کی دفعات حضرت عمر پر سخت نا گوار تھیں۔ وہ حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور کہا: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَيْسَ بِرَسُولِ اللَّهِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: أَوْ لَسْنَا بِالْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: أَوْ لَسْوَا بِالْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَعَلَامَ نُعْطَى الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا ( سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 317)۔ یعنی اے ابوبکر، کیا محمد اللہ کے رسول نہیں، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ عمر نے کہا کہ کیا ہم مسلمان نہیں، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ عمر نے کہا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page