ہجر جمیل
Urdu book, p. 263
By Maulana Wahiduddin Khan
تعمیر حاصل کرنا۔ اگر یہ بات معاہدہ کے متن میں لکھ دی جاتی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان اُسی وقت اس کا اعلان کر دیتے تو صلح کے مقاصد سرے سے فوت ہوجاتے۔ اس قسم کے مقاصد ہمیشہ اعلان کے بغیر ہوتے ہیں، نہ کہ اعلان کے ساتھ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ یہاں تک کہ بعد کو جب اس کا عملی نتیجہ ظاہر ہو گیا، اُس وقت لوگوں نے جانا کہ اس صلح کے اندر کتنی بڑی مصلحت چھپی ہوئی تھی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت ابوبکر صدیق نے بعد کے زمانہ میں ان الفاظ میں بیان کی: مَا كَانَ فَتْحٌ فِي الْإِسْلَامِ أَعْظَمَ مِنْ فَتْحِ الْحُدَيْبِيَةِ، وَلَكِنَّ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ قَصُرَ رَأْيُهُمْ عَمَّا كَانَ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَرَبِّهِ، وَالْعِبَادُ يَعْجَلُونَ، وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَعْجَلُ كَعَجَلَةِ الْعِبَادِ حَتَّى تَبْلُغَ الْأُمُورُ مَا أَرَادَ اللَّهُ ( مغازی الواقدی ، جلد 2، صفحہ 610)۔ یعنی اسلام میں حدیبیہ کی فتح سب سے بڑی فتح تھی۔ لیکن معاہدہ کے دن لوگوں کو اس بات میں رائے قائم کرنے میں کوتاہی ہوئی جو محمد اور آپ کے رب کے درمیان تھا۔ انسان عجلت پسند ہے اور اللہ انسانوں کی طرح عجلت نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ معاملہ وہاں تک پہنچ جائے جو اللہ چاہتا ہے۔ 6۔ ہجر جمیل (حسن اعراض) سادہ طور پر محض ایک بچاؤ کی تدبیر نہیں، بلکہ وہ بامقصد انسان کی سوچی سمجھی ایک مستقل اخلاقی روش ہے۔ بامقصد انسان کے سامنے ایک متعین منزل ہوتی ہے، جہاں پہنچنا اُس کا سب سے بڑا کنسرن (concern) ہوتا ہے۔ اس لیے وہ راستہ کے ہر اُلجھاؤ سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے تاکہ وہ کسی رُکاوٹ کے بغیر اپنی آخری منزل تک پہنچ سکے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قدیم مکہ کے لوگوں نے پیغمبر اسلام کو بہت ستایا تھا۔ آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر اتنا زیادہ تشدد کیا کہ آپ کو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مکہ چھوڑ دینا پڑا۔ اس ترک وطن کے بعد بھی وہ آپ کے خلاف مسلسل جارحیت کرتے رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader