ہجر جمیل
Urdu book, p. 264
By Maulana Wahiduddin Khan
آخر کار وہ وقت آیا جب کہ پیغمبر اسلام ، اللہ کی مدد سے مکہ کے فاتح بن گئے۔ اب وقت تھا کہ ماضی کے ظلم کی انہیں سزا دی جائے ۔ عام رواج کے مطابق، اُن کو قتل کر دینا عین جائز تھا۔ مگر پیغمبر اسلام نے اُن لوگوں کے ساتھ ہجر جمیل کی روش اختیار کی ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب قریش کے یہ مجرمین آپ کے سامنے حاضر ہوئے تو آپ نے اُن سے پوچھا کہ تم کیا سمجھتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ: ”اَخُ کَرِيمٌ وَابْنُ أَخِ كَرِيمٍ“ (آپ شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں) ۔ پیغمبر اسلام نے اس کے بعد فرمایا کہ ٹھیک ہے۔ میں تمہارے بارے میں وہی کہوں گا جو پیغمبر یوسف نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا: لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (12:96) ۔ یعنی، آج تمہارے اوپر کوئی الزام نہیں۔ یہ کہہ کر آپ نے فرمایا کہ : جاؤ تم سب لوگ آزاد ہو۔ اس طرح آپ نے اُن تمام لوگوں کو آزاد کر دیا جو اس سے پہلے آپ کے خلاف کھلے دشمن بنے ہوئے تھے۔ (دیکھیے، السنن الکبریٰ للبیہقی ، حدیث نمبر (18275-76 پیغمبر اسلام کا یہ عمل ایک با مقصد انسان کے عمل کی ایک اعلیٰ مثال تھی۔ پیغمبر اسلام کا مقصد یہ تھا کہ آپ بیت اللہ کو بتوں سے پاک کریں۔ مکہ کے لوگوں کو شرک سے نکال کر انہیں خدائے واحد کا پرستار بنائیں۔ اپنے دشمن انسان کو دوست انسان میں تبدیل کر کے توحید کی بنیاد پر وہ انقلاب لائیں جس کے لیے آپ کو مبعوث کیا گیا تھا۔ پیغمبر اسلام کے یک طرفہ حسن سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ کے یہ تمام لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں: فَخَرَ جُوا كَأَنَّمَا نُشِرُوا مِنْ الْقُبُورِ فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ۔ یعنی پھر وہ لوگ وہاں سے اس طرح نکلے جیسے کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں اور وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ (دیکھیے ، السنن الکبریٰ للبیہقی ، حدیث نمبر 76-18275)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader