Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

غیر فطری رد عمل

Urdu book, p. 266

By Maulana Wahiduddin Khan

کہا گیا ہے۔ یعنی جب اپنے مزاج کے خلاف کوئی بات پیش آئے تو اشتعال نہ ہو کر ٹھنڈے ذہن کے ساتھ اس پر غور کرنا، اور سوچے سمجھے فیصلہ کے تحت معتدل انداز میں اس کا جواب دینا۔ اس معتدل جواب کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ ایک یہ کہ سادہ طور پر بس اُس کو نظر انداز کر دیا جائے ۔ یعنی وہی رویہ جس کو عام زبان میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے ــ کتنے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی چلتا رہتا ہے۔ اسی طرح کبھی ہجرِ جمیل کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مخالف گروہ کی بدعملی کا جواب خوش عملی سے دیا جائے ۔ اس کے پست اخلاق کے مقابلہ میں برتر اخلاق کا طریقہ اختیار کر کے اس کو مغلوب کر لیا جائے ۔ اسی طرح کبھی حالات کا تقاضا یہ ہو سکتا ہے کہ دباؤ کی سیاست (pressure tactics) کا طریقہ اختیار کر کے اس کو خاموش ہونے پر مجبور کر دیا جائے۔ ہجر جمیل کی کوئی ایک لگی بندھی صورت نہیں۔ حالات کے اعتبار سے اس کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں۔ تاہم جو صورت بھی اختیار کی جائے وہ سوچے سمجھے منصوبہ کی بنیاد پر ہوگی، نہ کہ بلا سوچے سمجھے ردعمل کی حیثیت سے ۔ اس کا بنیادی مقصد اعراض کرنا ہوگا، نہ کہ اُلجھ جانا۔ وہ ہمیشہ امن کے اصول پر ہوگی، نہ کہ تشدد کے اصول پر ۔ اس کے پیچھے کبھی نفرت اور انتقام کا جذبہ نہیں ہوگا بلکہ صرف یہ جذبہ ہوگا کہ کسی نہ کسی طرح حسنِ تدبیر کے ذریعہ معاملہ کو ٹال دیا جائے تا کہ زندگی کی گاڑی معمول کے مطابق اپنے مطلوب رُخ پر چلنے لگے۔ ہجرِ جمیل کا نشانہ خارجی مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ آدمی کی خود اپنی ذات ہوتی ہے۔ ہجرِ جمیل کا نشانہ یہ نہیں ہوتا کہ خود مسئلہ کا خاتمہ کر دیا جائے ۔ اُس کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ مسئلہ کو اپنے خلاف مسئلہ بننے سے روک دیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page