Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

دعوت کے حدود

Urdu book, p. 267

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت کے حدود قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے : فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ. لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ (88:21-22) ۔ یعنی، تم لوگوں کو نصیحت کرو، کیوں کہ تم صرف نصیحت کرنے والے ہو۔ تم لوگوں کے اوپر داروغہ نہیں ہو۔ اسی طرح دوسرے مقام پر کہا گیا ہے : مَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ ۖ فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ يَخَافُ وَعِيدِ (50:45) ۔ یعنی، تم لوگوں کے اوپر زبردستی کرنے والے نہیں ہو، پس تم قرآن کے ذریعہ اس شخص کو نصیحت کرو جو میرے پیغام کو سننے کے لیے راضی ہو۔ حضرت ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کسی صحابی کو کسی کام پر بھیجتے تو فرماتے : بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا، وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 1732)۔ یعنی، خوش خبری دو اور متنفر نہ کرو، آسانی پیدا کرو اور لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالو۔ اس طرح کی آیتیں اور حدیثیں گویا دعوت کے عمل کی حد بندی کر رہی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی کو ابلاغ کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہے، اس کو اجبار (زور زبردستی) کے دائرے میں داخل نہیں ہونا ہے۔ اس کے لیے یہ مناسب طریقہ ہے کہ وہ سمجھانے بجھانے کے تمام ذرائع کو استعمال کرے ۔ مگر اس کو یہ حق نہیں کہ وہ دین کے نام پر دھرنا یا احتجاج، وغیرہ کا راستہ اختیار کر کے عام لوگوں کے لیے تکلیف کا سبب بنے (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 2629)۔ مثال کے طور پر شتم رسول کو لیجیے۔ شتم رسول کا واقعہ پیش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page