Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

عرضِ مترجم

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

برداشت نہ کر سکے۔ انھوں نے پیغمبروں کی سخت ترین مخالفت کی اور ان کے بعد ان کی تاریخ کو اس طرح بگاڑ ڈالا کہ کوئی شخص ان کی سیرت اور ان کے پیغام کو جاننا چاہے تو اس کے لیے اس کے متعلق صحیح معلومات حاصل کرنا ممکن ہی نہ رہے۔ اوپر یورپ کے مسیحی لٹریچر کی جو مثالیں، نقل کفر کفر نباشد کے اصول کے تحت درج کی گئی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی وہی سب کچھ بدترین شکل میں کیا گیا جو دوسرے پیغمبروں کے ساتھ کیا گیا تھا (سورہ الحجر، 15:11)۔ آپ کے مخالفین نے آپ کی سیرت اور آپ کے پیغام کو بگاڑنے کے لیے وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتے تھے۔ مگر یہاں دونوں کے درمیان ایک زبردست فرق ہے۔ دوسرے پیغمبروں کی سیرت اور ان کے پیغام کو بگاڑنے والے بظاہر اپنے اعتبار سے کامیاب ہو گئے۔ یعنی انھوں نے بگاڑ نا چاہا اور عملاً بگاڑ دیا۔ چنانچہ ان سابق پیغمبروں کے بارے میں آج قرآن کے باہر کہیں صحیح تاریخی ریکارڈ نہیں ملتا۔ حتیٰ کہ ان کی اپنی کتابوں میں بھی نہیں۔ لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں صورت حال بالکل مختلف رہی۔ یہاں مخالفین کی ساری کارروائیاں بالکل نا کام ہو کر رہ گئیں۔ لوگوں کی بدترین مخالفانہ کوششوں کے باوجود، آج آپ کی تاریخ اور آپ کی لائی ہوئی تعلیمات کا متن اس طرح کامل صورت میں محفوظ ہے کہ اس سے زیادہ محفوظ اور مستند صورت موجودہ دنیا تک ممکن نہیں۔ یہ کوئی سادہ سی بات نہیں۔ یہ فرق دراصل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الرسل ہونے کا عظیم الشان ثبوت ہے۔ پچھلے زمانوں میں جو پیغمبر آئے، وہ علم الہیٰ کے مطابق، سلسلہ نبوت کے خاتم نہ تھے۔ ان کے بعد بھی نبیوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہنے والا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ یہ معاملہ نہیں کیا کہ ان کے مخالفین کی معاندانہ کارروائیوں کو غیر مؤثر بنا دے تا کہ وہ ان کی تاریخ اور ان کی تعلیمات کو بگاڑنے سے عاجز رہ جائیں۔ مگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page