عرضِ مترجم
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ یہ تھا کہ علم الہی کے مطابق وہ آخری رسول اور خاتم النبیین تھے۔ آپ کے بعد پھر کوئی نبی یا رسول آنے والا نہ تھا، اس لیے ضروری تھا کہ آپ کی سیرت اور آپ کی تعلیم کو کامل طور پر محفوظ رہے۔ کیوں کہ آپ کی سیرت اور آپ کی تعلیم کے غیر محفوظ ہو جانے کی صورت میں دوسرے نبی کا آنا ضروری ہو جاتا۔ خاتم النبیین صرف سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والے نہ تھے، اسی کے ساتھ آپ مخالفین حق کے لیے اس موقع کو بھی ختم کر دینے والے تھے کہ وہ پیغمبر کی سیرت اور اس کی تعلیمات کو بگاڑنے یا مٹانے میں کامیاب ہوسکیں۔ ختم نبوت لازمی طور پر حفاظت نبوت کا مقتضیٰ ہے، اور اس کا اہتمام اللہ تعالیٰ کی طرف سے پوری طرح کر دیا گیا ہے۔ اب پیغمبر کی آمد کا سلسلہ بلا شبہ ختم ہو چکا ہے۔ مگر خود ختم نبوت ہی کے طفیل میں مومنان نبوت کو ایک عظیم الشان خدائی مدد ابدی طور پر حاصل ہے۔ وہ یہ کہ اگر وہ پیغمبر خدا کی سچی اور بے آمیز دعوت کو لے کر اٹھیں تو مخالفین کی بڑی سے بڑی کوششیں ہباء منثورا ہو کر رہ جائیں گی۔ دعوتِ رسالت کو بدنام کرنے یا اس کو نا کام بنانے کی ہر کوشش کا وہی انجام ہوگا جو خود ذات رسالت کے معاملہ میں ہوا۔ یہ خداوند عالم کا فیصلہ ہے، اور خداوند عالم کے فیصلہ کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ ختم نبوت کا لازمی تقاضا حفاظت نبوت ہے، اور حفاظت نبوت کا لازمی تقاضہ حفاظت امت ۔ یہ تینوں آپس میں لازم وملزوم ہیں۔ ختم نبوت اس کے بغیر مکمل نہیں کہ نبوت کا ریکارڈ پوری طرح محفوظ حالت میں موجود رہے۔ اور اس عالم اسباب میں نبوت کا ریکارڈ اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے جب کہ ایک امت مسلسل اس کی پشت پر کھڑی ہوئی ہو۔ یہ صورت حال امت محمدی کی حفاظت کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ اب امت کو صرف ایک کام کرنا ہے۔ وہ نبوت کی چوکیار بنی رہے، جس میں نبوت کی تبلیغ واشاعت بھی لازمی طور پر شامل ہے۔ اس کے بعد اغیار اور اعداء کے مقابلہ میں اس کی حفاظت کا کام خود خدا کی طرف سے قیامت تک کیا جاتا رہے گا، اس کے لیے امت کو الگ سے اہتمام کرنے کی ضرورت نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader