اعراض کی ضرورت
Urdu book, p. 276
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے کہ کیا تم کو اس پر تعجب نہیں کہ اللہ نے مجھ کو قریش کی ایذارسانی سے بچا لیا۔ وہ مجھ کو مذمم کہہ کر میرا سب وشتم کرتے ہیں اور میری ہجو کرتے ہیں، حالاں کہ میں محمد (قابل تعریف) ہوں ۔ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 356) یعنی اُن کی باتیں میرے اوپر پڑنے والی نہیں۔ یہ لوگ مذمم پر سب وشتم کر رہے ہیں جب کہ میرا نام محمد ہے، نہ کہ مذمم۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نمونے کی روشنی میں ہونا یہ چاہیے تھا کہ مسلمان جب مذکورہ کارٹون کو دیکھیں تو وہ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کر دیں کہ پیغمبر اسلام تو بم بردار نہیں تھے بلک وہ امن بردار تھے۔ اس لیے یہ کارٹون پیغمبر اسلام سے متعلق نہیں ہوسکتا۔ وہ کسی اور انسان سے متعلق مانا جائے گا جو بم بردار ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے معاملے میں دیکھنے کی اصل بات یہ نہیں ہے کہ ہمارے اپنے نقطۂ نظر سے صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ بلکہ دیکھنے کی اصل بات یہ ہے کہ اگر ہم نے اقدام کیا تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ جیسا کہ معلوم ہے، جب سے پریس کا زمانہ آیا ہے اس طرح کے معاملات بار بار پیش آتے ہیں۔ ہر بار مسلمان اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہیں، حتی کہ وہ توڑ پھوڑ اور تشدد کا طریقہ بھی اختیار کرتے ہیں۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ نتیجہ ہمیشہ برعکس صورت میں نکلتا ہے۔ یعنی اخباروں یا کتابوں میں مسلم نقطۂ نظر سے ناخوش گوار باتوں کا چھپنا تو بند نہیں ہوتا، البتہ اسلام شدید طور پر بدنام ہو جاتا ہے، اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلقات کی فضا بگڑ جاتی ہے۔ دونوں کے درمیان وہ معتدل ماحول باقی نہیں رہتا جو کسی مثبت کام کے لیے ضروری ہے۔ خاص طور پر دعوتی کام کے اعتبار سے دیکھیے تو اس طرح کا منفی رد عمل، قاتلِ دعوت کی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ زمانے میں اخباروں اور کتابوں میں برابر ایسی چیزیں چھپتی رہتی ہیں جو اسلام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader