Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

اعراض کی ضرورت

Urdu book, p. 275

By Maulana Wahiduddin Khan

کے الفاظ آئے ہیں۔ صبر اور اعراض، تشدد کے برعکس رویئے کا نام ہے۔ تشدد یہ ہے کہ کوئی بات جو آپ کو ناگوار معلوم ہو اس پر مشتعل ہو جانا، اور احتجاج یا تخریب کاری کی صورت میں اپنے انتقامی جذبے کا اظہار کرنا۔ اس کے برعکس، صبر و اعراض یہ ہے کہ ناخوش گوار باتوں کا سامنا تحمل کے ساتھ کیا جائے۔ اپنے آپ کو منفی کارروائیوں سے بچایا جائے تا کہ اپنے مقصد کی طرف مثبت سفر کو جاری رکھا جا سکے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں فطری طور پر ایسا ہوگا کہ بہت سے لوگ اپنی آزادی کا غلط استعمال کریں گے۔ جس سے آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔ لیکن یہ صورتِ حال کسی فرد یا قوم کی سازش کا نتیجہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کا نتیجہ ہے۔ خدا نے لوگوں کو جب امتحان کے لیے آزادی دی ہے تو ضرور ایسا ہوگا کہ لوگ اپنی آزادی کا غلط استعمال کریں۔ خدا جب تک لوگوں کی آزادی کو منسوخ نہ کرے اس کا غلط استعمال بھی بہر حال جاری رہے گا۔ ایسی حالت میں ناخوش گوار واقعات پر مشتعل ہونا، کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی خدا کے تخلیقی نقشے پر راضی نہیں۔ خدا کی قائم کردہ دنیا اس کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ایک اور دنیا ہو جو اس کی اپنی مرضی کے مطابق ہو۔ مگر ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔ انسان اپنی پسند کی ایک اور دنیا نہیں بنا سکتا۔ اس لیے اس پر لازم ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی نقشے کو مان کر اس کے تحت، اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جس طرح دوسری باتوں کے نمونے موجود ہیں، اسی طرح مذکورہ صورت حال میں بھی آپ کی زندگی میں ہمارے لیے نمونہ موجود ہے۔ مثال کے طور پر ابن اسحاق کی روایت کے مطابق، قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مُذَمّم (قابلِ ملامت) رکھا تھا۔ پھر وہ آپ پر سبّ و شتم کرتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page