کارٹون کا مسئلہ
Urdu book, p. 278
By Maulana Wahiduddin Khan
کارٹون کا مسئلہ شمالی یورپ کا ایک علاقہ ہے جس کو اسکینڈی نیویا کہتے ہیں۔ اس علاقے میں چار ممالک واقع ہیں سویڈن، ناروے، فن لینڈ اور ڈنمارک (Denmark)۔ یہاں کی آبادی میں تقریباً 2 لاکھ مسلمان ہیں۔ اسکینڈی نیویا یورپ کا ایک پرامن خطہ سمجھا جاتا رہا ہے، مگر پچھلے چند مہینوں سے وہ برعکس انداز میں، میڈیا میں نمایاں ہورہا ہے۔ ڈنمارک میں ڈینش (Danish) زبان لکھی اور بولی جاتی ہے۔ ایک ڈینش اخبار شیلاندس پوستین (Jyllands-Posten) کے شمارہ 30 ستمبر 2005 میں ایک کارٹون چھپا۔ کارٹون، جدید صحافت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ کارٹون کا مقصد نہ تعریف ہے اور نہ توہین۔ کارٹون دراصل صحافت کا ایک تفنن آمیز جز (Comic item) ہے۔ چنانچہ عام طور پر لوگ کارٹون کو دیکھ کر یا تو اس سے محظوظ ہوتے ہیں یا سادہ طور پر اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ تاہم ڈنمارک کے اخبار کا مذکورہ کارٹون مسلمانوں کے لیے سخت قابل اعتراض ثابت ہوا۔ قصہ یہ تھا کہ اس اخبار میں ایک مضمون کے تحت کچھ کارٹون شامل کیے گئے ۔ ان میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا خاکہ پیش کیا گیا تھا۔ مثلاً ایک کارٹون میں دکھایا گیا تھا کہ پیغمبر اسلام اپنے ہاتھ میں ایک چھری لیے ہوئے ہیں اور آپ کے سر پر ایک پگڑی ہے جس کے اوپر بم رکھا ہوا ہے۔ اس کارٹون کی خبر جب عام ہوئی تو ہر جگہ کے مسلمان اُس کو دیکھ کر یا اس کو سُن کر مشتعل ہوگئے ۔ ان کے نزدیک یہ کارٹون پیغمبر اسلام کی توہین کے ہم معنی تھا۔ جو کہ مسلمانوں کے لیے ناقابلِ برداشت حد تک قابل اعتراض ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader