Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

کارٹون کا مسئلہ

Urdu book, p. 279

By Maulana Wahiduddin Khan

چنانچہ ساری دنیا میں مسلمانوں نے اس کے خلاف مظاہرے شروع کر دیے۔ بڑے بڑے جلوس نکالے گئے ۔ ڈنمارک کے سفارت خانوں میں آتش زنی اور توڑ پھوڑ ہوئی ۔ ان پرشور مظاہروں میں کئی افراد مارے گئے اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے ۔ دنیا کے مختلف حصوں میں یہ مظاہرے اتنے بڑھے کہ حکومتوں کے لیے ان پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں جو ناخوش گوار واقعات پیش آئے ان میں سے ایک واقعہ یہ تھا کہ کئی عرب ممالک نے ڈنمارک سے اپنے سفارتی تعلقات توڑ لیے اور اس سے اپنی تجارت منقطع کر دی۔ ڈنمارک، ڈیری صنعتوں کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کی ڈیری صنعت کا تقریباً 25 فیصد سامان عرب ممالک اور دیگر مسلم ممالک میں جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ڈنمارک کی کئی فیکٹریاں بند ہو گئیں اور بھاری تجارتی نقصان کی صورت میں ڈنمارک کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑی۔ اس کے نتیجے میں ڈنمارک کو روزانہ ایک ملین ڈالر کا نقصان ہونے لگا۔ اس معاملے میں ڈنمارک اور دوسرے مغربی ملکوں کا موقف یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے مطابق، آزادی اظہار انسان کا ناقابل تنسیخ حق ہے، اور مذکورہ کارٹون اسی حق کا ایک استعمال تھا۔ اس لیے ڈنمارک کے اخبار میں مذکورہ کارٹون کی اشاعت ان کے نزدیک کوئی قابل اعتراض چیز نہیں۔ ان کے خیال کے مطابق، مسلم جذبات کے لیے وہ ایک قابلِ اعتراض چیز ہو سکتی ہے لیکن ڈنمارک کے لوگوں کے نزدیک وہ صرف اپنی آزادی کا ایک استعمال تھا، اور ملکی قانون کے مطابق، وہ آزادی کے اس استعمال کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اجتماعی معاملات میں سوچنے کے دو طریقے ہیں ۔ ایک، یہ کہ آئیڈیل کیا ہے، اور دوسرے یہ کہ پریکٹیکل طور پر کیا ممکن ہے اور کیا ممکن نہیں۔ اس معاملے میں اہل ڈنمارک کا جواب آئیڈیل کے اعتبار سے بظاہر درست ہو سکتا ہے، لیکن پریکٹیکل کے اعتبار سے دیکھیے تو وہ بالکل نادرست قرار پائے گا۔ آزادی کا استعمال ایک فرد اپنے کمرے میں کرے تو اُس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page