Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

کارٹون کا مسئلہ

Urdu book, p. 283

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ اعراض کا مطلب کسی ناپسندیدہ صورت حال میں ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کرنا ہے ۔ یعنی اعلی ظرفی کا وہی طریقہ جس کو تمثیل کی زبان میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : کتے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی چلتا رہتا ہے اس معاملے میں پیغمبر اسلام کی زندگی میں ایک انوکھا نمونہ پایا جاتا ہے ۔ ابنِ اسحاق نے ایک روایت میں بتایا ہے کہ قدیم مکہ میں عرب کے مخالفین ، پیغمبر اسلام کو مذمّم یعنی مذمت کیا ہوا (condemned person) کہتے تھے ۔ جب کوئی شخص آپ کے سامنے آ کر آپ کو مذمّم کہتا تو آپ اس کا کوئی جواب نہ دیتے بلکہ سادہ طور پر یہ فرماتے کہ ان لوگوں کو دیکھو ، یہ مجھ کو مذمّم بتا کر مجھ کو برا بھلا کہتے ہیں ۔ حالانکہ میرا نام تو محمد (قابلِ تعریف) ہے ، (سیرت ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ 356 ) ۔ یعنی ان کی بری باتیں اس شخص پر پڑیں گی جس کا نام مذمّم ہو ، وہ مجھ پر پڑنے والی نہیں ، کیوں کہ میرا نام تو محمد ہے ، مذمّم نہیں ۔ موجودہ زمانے کا ایک مسلّمۂ اصول یہ ہے کہ اگر آدمی امن کے دائرے میں رہے تو وہ اپنے کسی بھی نظریے کو بلا روک ٹوک پیش کر سکتا ہے ۔ البتہ تشدد کا طریقہ اختیار کرتے ہی اس کی آزادی ختم ہو جاتی ہے ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ہر تحریک پر امن دائرے میں رہ کر چلائیں تاکہ کوئی شخص ان کے خلاف بولنے کا موقع نہ پاسکے ، خواہ کارٹون کا معاملہ ہو یا کوئی اور معاملہ ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سختی کے ساتھ اپنی جد و جہد کو پر امن طریقِ کار کا پابند رہتے ہوئے چلائیں ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس اہم اصول کو ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھیں ۔ وہ اپنی تحریکوں کو اس بین الاقوامی اصول کے مطابق چلائیں ۔ اس کے بعد ان کی تحریک زیادہ مؤثر ہوگی اور مزید یہ کہ اسلام اور مسلمان دونوں بدنام ہونے سے بھی بچ جائیں گے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page