کارٹون کا مسئلہ
Urdu book, p. 282
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بجائے امن لکھا ہوا ہو۔ اسی طرح اسلام اور عقل دونوں کے اعتبار سے وہی عمل صحیح عمل ہے جو اپنے انجام کے اعتبار سے مثبت نتیجے کا حامل ہو۔ ایسا اقدام جو اپنے نتیجے کے اعتبار سے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہو، وہ نہ اسلام کے اعتبار سے درست ہے اور نہ عقل کے اعتبار سے۔ اس اصول کی روشنی میں دیکھیے تو اقدام کا نتیجہ برعکس صورت میں برآمد ہوا ہے۔ یعنی اسلام لوگوں کی نظر میں ایک ایسا مذہب بن گیا ہے جو آزادی کے خلاف ہے اور اپنے پیروؤں کو تشدد کی تعلیم دیتا ہے۔ حالانکہ یہ اسلام کی صحیح تصویر نہیں۔ پیغمبر اسلام کے زمانے میں مدینہ میں ایک شخص تھا جس کا نام عبداللہ بن أبی تھا۔ وہ اسلام، پیغمبر اسلام اور اہل بیتِ رسول کے خلاف سخت سازشوں کی بنا پر اس قابل ہو چکا تھا کہ اس کو قتل کر دیا جائے مگر پیغمبر اسلام نے قصدأ اس کو قتل نہیں کیا اور فرمایا کہ موجودہ حالات میں اس کا قتل اسلام کی بدنامی کا سبب بن جائے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج اس اصول کی اہمیت پہلے سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ کیوں کہ پہلے بدنامی کی خبر صرف زبانی طور پر پھیل سکتی تھی مگر آج ایسی خبر پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے دور میں بجلی کی رفتار سے پھیلتی ہے۔ اس معاملے میں احتجاجات کا نتیجہ عملاً صرف معکوس صورت میں برآمد ہوا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ 30 ستمبر 2005 کو جب یہ کارٹون ڈنمارک کے اخبار میں چھپا تو بہت تھوڑے لوگوں نے اس کو دیکھا تھا۔ مگر اس کے خلاف مسلمانوں کے پرشور احتجاج کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ کارٹون انٹرنیٹ پر آ گیا۔ اور ساری دنیا میں کروڑوں لوگ اس توہین آمیز کارٹون کو انٹرنیٹ پر دیکھنے لگے۔ اسلام کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو اعراض (avoidance) کہا جاتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader