امت کا فکری زوال
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
امت کا فکری زوال ایک حدیث رسول میں بتایا گیا ہے : ”عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رضي الله عنهما : قَالَ رَسُولُ اللہِ صلی الله علیه وسلم : خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ “ (صحيح البخاری، حدیث نمبر 3650)۔ یعنی عمران بن حصین روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر وہ جو اس سے ملا ہوا ہے، پھر وہ جو اس کے بعد ہے۔ اس حدیث رسول میں اسلام کے تین ادوار کو خیر کے ادوار کہا گیا ہے۔ ان ادوار کو قرون ثلاثہ یا قرون مشہود لھا بالخیر کہا جاتا ہے۔ ان تین ادوار سے مراد ہے _ عہد رسالت، عہد صحابہ، عہد تابعین۔ ان تین ابتدائی ادوار کی مدت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات (632ء) کے بعد تقریباً ایک سو سال تک رہی۔ اس کے بعد وہ دور شروع ہو گیا جو قرون مشہود لھا بالخیر کے بعد کا دور تھا۔ گویا کہ اسلام کی تاریخ میں مستند ادوار صرف ابتدائی تین ادوار ہیں۔ بعد کے ادوار کو اسلام میں مستند حیثیت حاصل نہیں۔ اس مسئلے کی مزید تعیین کی جائے تو کہا جائے گاکہ اسلام کے ابتدائی تین ادوار میں اسلام کا فکری مرجع تمام تر قرآن تھا۔ ثانوی مرجع کے طور پر حدیث بھی اس میں شامل ہے، کیوں کہ حدیث قرآن کی تشریح ہے۔ حدیث کے بغیر قرآن کو درست طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔ تقریباً سو سال بعد اسلام کی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا جس کو فقہی دور کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جب کہ ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر کے علاقے فتح ہوئے اور بتدریج اس علاقے کے لوگ اسلام میں داخل ہونا شروع ہوئے۔ یہ لوگ اسلام سے پہلے مجوسی مذہب یا مسیحی مذہب میں شامل تھے۔ ان تمام مذاہب میں اُس وقت ساری اہمیت صرف فارم (form) کو دی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader