Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

امت کا فکری زوال

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

جاتی تھی ۔ ان لوگوں نے جب اسلام قبول کیا تو اپنے قدیم مائنڈ سیٹ (mindset) کے تحت وہ یہ جاننے کی کوشش کرنے لگے کہ اسلام کا فارم کیا ہے۔ یہی وہ دور ہے جب کہ اسلام کی تاریخ میں وہ شعبہ پیدا ہوا جسے کوفہ کہا جاتا ہے۔ قرآنی پیٹرن کے بجائے فقہی پیٹرن یہیں سے مسلمانوں میں فکری ڈی ریلیمنٹ (derailment) شروع ہوا۔ اگر آپ فقہی کتابوں کا مطالعہ کریں تو آپ پائیں گے کہ فقہ میں بظاہر اسلام کی مختلف تعلیمات زیر بحث آتی ہیں، لیکن عملاً تمام فقہی بحثیں ان تعلیمات کے فارم پر ہوتی ہیں۔ فقہ کا یہ پیٹرن اصولی بنیاد پر نہیں بنا، بلکہ حالات کے زیر اثر (situational factor) بنا ہے۔ آپ قرآن کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ قرآن میں سارا زور اسلام کی اسپرٹ پر دیا گیا ہے، لیکن فقہ میں ایک انتقال تاکید (shift of emphasis) کا واقعہ پیش آیا اور سارا زور اسپرٹ کے بجائے فارم پر دیا جانے لگا۔ دین میں اسپرٹ کے بجائے فارم کو اہمیت دینے کا یہ فقہی طریقہ بعد کے لوگوں کے لیے ایک رجحان ساز (trendsetter) واقعہ بن گیا۔ اس کے بعد دینی موضوعات پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ تقریباً سب کی سب اسی نہج پر لکھی گئیں۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔ دین بیضا کے دین غیر بیضا بن جانے کا اصل سبب یہی ہے۔ فقہ کا یہ اسلوب، عملاً اہل علم کے درمیان عام ہوگیا۔ بعد کے اہل علم نے اسی پیٹرن کو معیاری پیٹرن کی حیثیت سے اختیار کر لیا۔ وہ اسی انداز میں سوچنے لگے اور اسی انداز پر کتابیں لکھنے لگے۔ یہ فقہی پیٹرن اتنا زیادہ عام ہوا کہ بعد کے زمانے میں لکھی جانے والی کتابوں میں شاید کوئی بھی کتاب اس سے مستثنیٰ نہیں۔ مثلاً ابن تیمیہ (وفات 1328ء) کی کتاب 'الصارم المسلول علی شاتم الرسول' اسی نہج کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page