Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

قومی توہین

Urdu book, p. 302

By Maulana Wahiduddin Khan

قومی توہین مسجد کے سامنے سے ہندوؤں کا جلوس گزرے تو مسلمان فوراً اس سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ مگر اسی مسجد کے سامنے سے مسلمانوں کا شادی کا جلوس گزرے تو کوئی مسلمان اس کو روکنے کے لیے نہیں اٹھتا۔ کوئی ہندو اگر مسجد کے اندر ٹرانسٹْر بجائے تو مسلمان اتنا مشتعل ہوں گے کہ پوری بستی میں فساد کی صورت پیدا ہو جائے گی۔ لیکن اسی مسجد میں اگر مسلمان ٹرانسٹْر بجائے تو کسی مسلمان کو غصہ نہیں آتا۔ کوئی ہندو مسجد میں بت رکھ دے تو فوراً ہنگامہ کھڑا ہو جائے گا۔ مگر مسلمان بزرگوں کی درگاہوں میں ان کی قبر کو بت بنا کر پوجتے ہیں اور اس پر کوئی شور نہیں مچتا۔ ایک ہی قسم کے دو واقعات میں یہ فرق کیوں ہے ۔ کیوں ایسا ہے کہ مسلمان ایک ہندو کے جس فعل پر بھڑکتے ہیں، وہی فعل ایک مسلمان کرے تو وہ نہیں بھڑکتے۔ اس کی وجہ مسلمانوں کی خود ساختہ قومی شریعت ہے نہ کہ خدا کی دی ہوئی اسلامی شریعت۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے اپنی پڑوسی قوم کے ساتھ پچھلی نصف صدی سے رقابت (rivalry) قائم کر رکھی ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ جب وہ کوئی ایسا واقعہ دیکھتے ہیں جس میں ان کے خیال کے مطابق، ہندو قوم، مسلم قوم کی بڑائی کو پامال کر رہی ہو تو وہ اس میں اپنی قومی توہین محسوس کرتے ہیں اور قومی جذبہ کے تحت بھڑک اٹھتے ہیں اور فریقِ ثانی سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ مسلمانوں نے بطور خود ان چیزوں کو ملی غیرت یا اسلامی غیرت کا نام دے رکھا ہے۔ مگر یہ غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ یہ ایک جھوٹے قومی عمل کو اسلام کی اصطلاحوں میں بیان کرنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page