Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

قومی توہین

Urdu book, p. 305

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے کہیں گے۔ آج رسول اللہ کا لفظ مٹانے کے لیے کہہ رہے ہیں، کل خدا کا لفظ مٹانے کا مطالبہ شروع کر دیں گے۔ وغیرہ، وغیرہ۔ مگر اہل مکہ کی ہٹ دھرمی کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح نہیں سوچا۔ آپ نے اس قسم کے تمام اندیشوں کو شیطانی وسوسہ قرار دیتے ہوئے انہیں بالکل نظر انداز کر دیا۔ اور اہل مکہ کی تمام شرطوں کو مان کر مدینہ واپس چلے آئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آپ کی یہ واپسی“ عظیم ”اقدام“ کے ہم معنی بن گئی۔ اس کے بعد اللہ کی مدد آئی اور صرف 2 سال کے اندر نہ صرف مکہ آپ کے کنٹرول میں آگیا، بلکہ مکہ والے بھی آپ کے سچے ساتھی بن گئے۔ موجودہ زمانے میں بھی مسلمانوں کے سامنے اس قسم کے معاملات پیش آرہے ہیں۔ غیر مسلم طبقہ کی طرف سے بعض اوقات ایسے مطالبے کیے جاتے ہیں جو مذکورہ بالا مطالبات کے مشابہ ہیں۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ اپنی سنت کی زبان میں مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں کہ میں تمہارے لیے خدائی نمونہ ہوں۔ تم وہی کرو جو میں نے کیا۔ مگر مسلم ہر بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کہنے کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ وہ جھوٹے لیڈروں کے کہنے پر چل رہے ہیں، نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر۔ جب بھی مذکورہ نوعیت کا کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو نام نہاد لیڈر مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ دیکھو، ذرا بھی نرم نہ پڑنا۔ اگر تم نرم پڑے تو اغیار اور زیادہ کڑے ہو جائیں گے۔ دیکھو ، ذرا بھی ان لوگوں کے ساتھ رعایت نہ کرنا۔ اگر تم نے رعایت کا معاملہ کیا تو وہ اور زیادہ دلیر ہو جائیں گے اور تمہارے ساتھ مزید سختی کا معاملہ کریں گے۔ ایسے مواقع پر مسلمان اپنے رسول کی سنت کو چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے لیڈروں کے کہے کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page